ماسکو/کیف(ایچ آراین ڈبلیو)روس نے یوکرین پر گزشتہ رات شدید ترین فضائی حملہ آور کیا، جس میں درجنوں میزائل اور سیکڑوں ڈرونز استعمال کیے گئے۔ اس حملے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق، روسی افواج نے تقریباً 40 کروز اور بیلسٹک میزائلز کے علاوہ مختلف اقسام کے 580 ڈرونز یوکرین کے مختلف شہروں اور علاقوں پر فائر کیے۔ یہ حملہ گزشتہ ہفتوں کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مشرقی شہر ڈنیپرو میں ایک عمارت پر کلسٹر میزائل براہ راست لگا، جس سے بڑی تباہی ہوئی۔
مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، دنیپروپیٹروسک علاقے میں ایک ہلاکت اور 26 زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ شمالی چرنیہیو علاقے میں ایک 62 سالہ شخص ڈرون حملے میں ہلاک ہوا، جبکہ خمیلنیتسکی علاقے میں تقریباً 20 رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں اور ایک شخص کی لاش ملی۔
دوسری جانب، روسی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے وولگوگراڈ اور روستوف علاقوں میں یوکرین کے بڑے پیمانے پر حملوں کو ناکام بنا دیا۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق، ان کے فضائی دفاعی نظام نے رات کے دوران 149 یوکرینی ڈرونز تباہ کیے۔
اس حملے کے بعد یوکرین نے روس پر امن کی کوششوں کو جان بوجھ کر روکنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ عالمی برادری کی طرف سے تشدد بند کرنے کی اپیلوں کے باوجود صورتحال کشیدہ ہے۔


