بیجنگ(ایچ آراین ڈبلیو)چین کے معتبر ژیانگ شان فورم کے دوران ایک غیر معمونی واقعہ نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی، جہاں سنگھوا یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسر یان شُوے تُونگ اور ایک اسرائیلی فوجی افسر کے درمیان غزہ پر کشیدہ مکالمہ ہوا۔
فورم میں اسرائیلی افسر کے غزہ میں شہریوں کے تحفظ کے دعووں پر پروفیسر یان نے دوٹوک ردعمل دیتے ہوئے کہا، “آپ نے 70 ہزار سے زائد معصوم شہریوں کو مار ڈالا ہے۔ یہ حقیقت نہ آپ طے کر سکتے ہیں، نہ آپ کی حکومت۔ اس کا فیصلہ عالمی برادری کرے گی۔ اسرائیل کے پاس حقائق کو مسخ کرنے کا نہ کوئی جواز ہے اور نہ ہی حق۔”
مکالمہ اس وقت اور زیادہ کشیدہ ہو گیا جب اسرائیلی افسر نے شرط رکھی کہ اگر حماس یرغمالیوں کو رہا کر دے اور غیر مسلح ہو جائے تو اسرائیل دو ریاستی حل پر غور کرے گا۔ پروفیسر یان نے اسے فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا، “یہ محض پروپیگنڈا ہے۔ چند اسرائیلیوں کے علاوہ اس پر کوئی یقین نہیں کرتا۔”
بین الاقوامی مبصرین اس واقعے کو چین کے بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ اور اسرائیل پر بڑھتے عالمی دباؤ کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ یہ منظرنامہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسرائیلی پالیسیوں پر بین الاقوامی سطح پر تنقید میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔


