کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)شاہ لطیف ٹاؤن سےلاپتہ شہری کی بازیابی سےمتعلق درخواست کی سماعت ہوئی-ایس ایس پی انویسٹیگیشن ساؤتھ علی حسن اورایس ایس پی انویسٹیگیشن ملیرآصف عدالت میں پیش ہوگئے-میرے بھائی کوپولیس نےگرفتارکیااورگھرمیں لوٹ مارکی-پولیس اہلکاروں نے گھر سے زیورات اٹھائے اور بھائی کی موٹر سائیکل بھی لے گئے-
لاپتہ شہری ڈکیتی کے مقدمات میں ملوث ہے-زیورات کے لیے تفتیش کی ضرورت ہے لیکن بتائیں موٹر سائیکل کیوں لے گئے-موٹر سائیکل لاوارث کھڑی تھی اور 50لاکھ روپے کی بینک ڈکیتی میں استعمال ہوئی-موٹر سائیکل کے ڈکیتی میں ملوث ہونے کے شواہد جیو فینسنگ میں سامنے آئے-
جیو فینسنگ میں آدمی کا تو اندازہ ہو جاتا ہے، موٹر سائیکل کا کیسے پتہ چل سکتا ہے-پولیس کا بس چلے تو گھروں سے سارا سامان ہی نہیں ڈھورڈنگربھی اٹھا لے جائیں-گھر کے باہر کھڑی گاڑی لاوارث نہیں ہوتی، ایسے تو پولیس سارے شہر کی گاڑیاں لے جائے-تفتیش کریں،لوٹ مار نا کریں، ورنہ ہم سخت احکامات جاری کریں گے-
ہمارے احکامات سے متعلقہ پولیس والوں کی نوکری اور پوسٹنگ بھی متاثر ہوسکتی ہے-عوام کے مال کو غنیمت سمجھ کر لوٹ مار نا کی جائے-اپنی من مانی کرنا چاہتے ہیں تو پہلے معاشرے کو جنگل قرار دیدیں-کہہ دیں کہ ہمارے پاس ڈنڈا ہے اور جو ہم چاہیں گے وہی قانون ہے-اگر ہم کسی مہذب معاشرے میں ہیں تو مہذب معاشرے اداروں سے چلتے ہیں-
ہمیں مہلت دیں ہم تمام صورتحال سے عدالت کو آگاہ کردیں گے-عدالت نے پیشرفت سے آگاہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 22اگست کیلیے ملتوی کردی-شہری مصور کو پولیس نے شاہ لطیف کے علاقے سے حراست میں لیا-پولیس نے موٹرسائیکل ظاہر کردی ہے تاہم مصور حسین تاحال لاپتا ہے بازیاب کرایا جائے،درخواست


