کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کا خاتون کو ہراساں کرنے پر صوبائی محتسب کی جانب سے نوکری سے نکالے جانے کے حکم کوجرات مندانہ اقدام قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہےکہ عدالتیں بھی اس سزا کو برقرار رکھیں گی۔فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ کے الیکٹرک کا انتظام جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے وہ عوام کو ریلیف فراہم نہیں کرسکتےہیں۔مہذب دنیا میں مہذب لوگ ایسے الزامات پر مستعفی ہو جاتے ہیںلیکن کے الیکٹرک کے سی ای او ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عہدے پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ بجلی کمپنیوں کو سرکاری اداروں اور بیوروکریسی کی سپورٹ دستیاب ہے۔ کوئی بھی ادارہ اس قدر من مانیاں نہیں کر سکتا ہے جس قدر کے الیکٹرک بد مست ہاتھی کی طرح کر رہا ہے۔کیپیسٹی پیمنٹ اور سلیب سسٹم کا ڈرامہ بند کیا جائے۔ یہ سب ہتھیارسیاستدانوں اوربیوروکریسی کےبنائےہوئے ہیں۔ ان کا سخت محاسبہ کیا جائے۔پارلیمنٹ اداروں میں ہراسانی پر موثر قانون سازی کرےتاکہ اداروں میں اس طرح کےواقعات کی روک تھام ہو سکے ۔پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی میڈیا سیل سے جاری کردہ بیان میں طارق چاندی والانے کہا ہے کہ اداروں میں ہراساں کرنے کے کیسز کا سختی سے نوٹس لے کر فوری سزا دی جانی چاہیے۔کے الیکٹرک وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا دو سو ساٹھ ارب روپے سے زائد کا نادہندہ ہے۔ اتنے پیسوں میں کے الیکٹرک کو خریدا جا سکتا ہے۔ کے الیکٹرک بغیر سرمایہ لگائے پیسے کما رہی ہے۔ اس معاملہ کی پردہ داری کیوں کی جا رہی ہے؟گھروں میں انفرادی طور پر لگائے گئے سولر پینلز سے کے الیکٹرک سالانہ کتنے پیسے کما رہی ہے؟ حکومت اس معاملے میں خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے؟بجلی پورے پاکستان میں مہنگی ہے لیکن سب سے زیادہ مہنگی کراچی میں کیوں ہے؟آخر حکومت کے الیکٹرک کا تفصیلی آڈٹ کیوں نہیں کرتی ہے؟آئی ایم ایف بجلی کمپنیوں کی پشت پناہی کیوں کرتا ہے؟محتسب عوام کو کے الیکٹرک کی جانب سے ہراساں کرنے اور پیسے بٹورنے کا نوٹس کیوں نہیں لیتے ہیں؟کے الیکٹرک نے بیس سالوں میں بجلی بنانے کی صلاحیتوں میں کتنا اضافہ کیا ہے؟لائن لاسز ختم کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟کے الیکٹرک جب چاہے ہاتھ جھاڑ کر فرار ہو سکتی ہے۔ کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی اگر فرار ہو گئی تو کراچی اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔ حکومت پاکستان کے پاس کیا ضمانت ہے کہ کے الیکٹرک اگر بھاگ جائے تو کراچی کو بجلی ملتی رہے گی-
42


