47

حاجی لعل دین کا لاڈلہ پورے گائوں کا مالک بے وقت موت کو ٹال نہ سکا

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)80 کی دہائی کے مقبول ڈرامے “وارث” کا چودھری وارث حقیقت میں بڑے زمیندار گھرانے کا اکلوتا وارث تھا اس کا اصل نام محبوب عالم اور والد کا نام حاجی لعل دین تھا اس کے والد کے نام سے جنوبی سندھ میں گلاب لغاری اور ٹنڈو غلام علی کے درمیان ایک چھوٹا سا قصبہ “حاجی لعل دین گوٹھ” کے نام سے تھا شاید اب بھی ہو اس گائوں میں 8 سے 10 گھر تھے اور اس گائوں میں حاجی لعل دین کی طرح ایک اور بڑا چودھری اسماعیل بھی رہتا تھا جس کا گھر حاجی لعل دین سے زیادہ خوب صورت اور پختہ تھا ان دنوں پکے گھر بنانےکارواج ابھی ابتدائی مراحل طےکرہا تھا ننانوے فیصد لوگوں کے گھر کچے ہوتے تھے جبکہ آسودہ حال لوگوں کی شناخت انکے گھروں کی صفائی اور ہر سال مٹی سے دیواروں کی لپائی ہوتی تھی جس سے ان کے گھر گائوں میں منفرد اور الگ دکھائی دیتے تھے چودھری لعل دین اور چودھری اسماعیل سے ہمارے بہت ہی قریبی گھریلو مراسم تھے اور ہم انہیں چچا کہا کرتے تھے محبوب عالم مرحوم کا گھر کچا تھا جو مٹی اور گارے سے بنایا گیا تھا بعض جگہوں پر ایسے گھروں کی تعمیر کے وقت دیواروں اور چھتوں میں لکڑی کے فریم بناکر ان میں کچی اینٹوں یا گارے کی بھرت کی جاتی تھی جس سے ان گھروں کی مضبوطی کسی طرح بھی آج کی آر سی سی سے کم نہیں ہوتی تھی اس وقت کے گھر 200 سو سال تک برقرار رہتے تھے جن میں سے کچھ آج بھی مختلف مقامات پر موجود ہیں حاجی لعل دین اور چودھری اسماعیل پرانے آباد گار تھے جنہیں انگریز نے سکھر، کوٹری اور گدو بیراجز کی تکمیل کے دوران ہزاروں دیگر پنجابیوں سمیت پنجاب سے لاکر سندھ میں آباد کیا تھا جس کا مقصد سندھ کی بنجر زمینوں کی آباد کاری تھا جو بیراجوں کی وجہ سے اب سر سبز لبادہ اوڑھنے کو بے تاب تھیں میرے والدین کی ہجرت کے بعد گلاب لغاری میں رہائش کے ابتدائی اوقات میں ہی کسی وقت حاجی لعل دین سے دوستی ہوگئی ہوگی، دراصل گلاب لغاری علاقہ کا واحد بڑا گائوں تھا جس میں گھریلو استعمال کی اشیاء کی کئی دوکانیں قائم تھیں جبکہ آبادی بھی دو ڈھائی سو نفوس پر مشتمل تھی چائے اور کھانے کے چھوٹے موٹے ڈھابے قسم کے دو یا تین ہوٹل بھی تھے اس لیے قرب و جوار کے گو ٹھوں کے لوگ بنیادی اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے گلاب لغاری کا رخ کرتے تھے شاید ایسے ہی کسی موقع پر والد صاحب سے حاجی لعل دین کی شناخت ہوئی ہوگی جو بعد ازاں دوستی میں بدل گئی اور دونوں گھروں کے رشتے آرئیں ہونے کی وجہ سے بعد میں خاندانی مراسم میں ڈھل گئے حاجی لعل دین کے پاس سفر کے لیے ایک سے زائد گھوڑے تھے جس پر وہ خود ان کی اہلیہ اور محبوب عالم گلاب لغاری خریداری کرنے آتے تو ایسے میں دوپہر کا کھانا ہمارے گھر کھانا ضروری تھا جبکہ گرمیوں میں وہ کچھ دیر دوپہر کو بیٹھک میں آرام بھی کرتے دھوپ ڈھلتے ہی واپس چلے جاتے حاجی لعل دین بالشت بھر کالی داڑھی کے ساتھ ہمیشہ سفید کرتہ، سفید دھوتی اور سر پر جاٹوں والی پگڑی باندھے بڑی پر کشش شخصیت کے مالک تھے، ہم دونوں بھائی اکثرو بیشتر ان کے گائوں چلے جاتے ہمارے پاس واحد سواری ایک گدھا تھا جس پر سوار ہوکر یا پیدل ہی ان کے گائوں پہنچ جاتے محبوب عالم کی والدہ بہت نیک، مہمان نواز اور شفیق خاتون تھیں ہم لوگ کسی طرح بھی ان کے مقابلہ کے نہیں تھے بلکہ ہماری مالی حیثیت ان کے ہاریوں کے برابر ہی کہی جاسکتی ہے مگر پھر بھی ہم پانچ چھ سال کے بچے ہونے کے باوجود ان کے گھر جاتے تو وہ فورن اپنی گھریلو بوڑھی ملازمہ کو کہ کر تازہ روٹی لگوا تیں گائوں گوٹھوں میں دال یا سبزی کاسالن تو تقریبا ہر گھر میں ہوتاہی ہے مگر حاجی لعل دین کے گھر تو اکثر دیسی مرغ یا بکرے کا گوشت پکا ہوتا تھا، مارے غربت کے کھانے کی یہ کشش ہمیں بار بار ان کے گائوں لے جاتی، وہ نیک خاتون ہمارے قریب بیٹھ کر اپنی نگرانی میں روٹی کھلوا تیں ہمیں آج بھی یاد ہے کہ کبھی ان کے گھر سے بغیر کھائے واپس نہیں آئے ان کے گائوں میں ایک ہماری عمر کا بوٹا نام کا لڑکا تھا بھرے جسم موٹے نقوش سانولی رنگت کے ساتھ، اتفاق یہ تھا کہ ہم جب بھی حاجی لعل دین گوٹھ میں داخل ہوتے سب سے پہلے اس کمبخت سے سامنا ہوتا اور وہ بھی ہمیں دیکھ کر خوش ہو جاتا مگر ایک بری عادت اس میں یہ تھی کہ وہ ہمیشہ کہتا اوئے تسی بابے تلے دا۔۔۔۔۔۔۔وکھیا پھر خود ہی مٹھی بھینچ کر بازو لہراتے ہوئے کہتا اوئے بابے دا۔۔۔۔۔۔۔اینا وڈا ہم دونوں بھائی اس کی بات پر شرما جاتے کیونکہ ہمارے گھروں میں گالم گلوچ یا بے ہودہ گفتگو کا کوئی رواج نہ تھا جبکہ وہ مادر پدر ننگی باتیں کرتا اس کے مسلسل ایسے جملوں سے ہمیں بھی تجسس ہوا کہ اس کا مطلب آخر ہے کیا یہ کمبخت بابا تلہ کون ہے، گلاب لغاری سے دو یا تین کلو میٹر کے فاصلہ پر محبوب عالم کا گائوں تھا اس لیے ہم لوگ آئے روز ان کے گائوں چلے جاتے تھے محبوب عالم والدین کی اکلوتی اولاد تھی اس لیے اس کی تعلیم کا خاص خیال رکھا جاتا تھا اور چودھری لعل دین نے اسے ابتدائی تعلیم ہی سے ٹنڈو غلام علی میں داخل کروا دیا تھا انگریزوں نے میروں کے تعاون سے ایک مہنگا اسکول قائم کیا تھا جس میں محبوب عالم بھی پڑھتا تھا اور اس کی رہائش بھی اسی اسکول کے ہاسٹل میں تھی ہفتے میں ایک دن کی چھٹی پر وہ گھر آتا تھا اس لیے اس سے ہماری ملاقات بہت کم ہوتی تھی یوں بھی اس کے اندر شاید شروع ہی سے چودھری وارٹ گھسا بیٹھا تھا جس میں دولت و امارت کا غرور بھی ہوگا اس لیے وہ ہم سے فاصلہ ہی رکھتا تھا ہمیں بھی اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی تھی کیونکہ ایک تو ہماری اس کے سامنے اوقات ہی کیا تھی جبکہ دوسری وجہ اس کے والد اور والدہ اتنا پیار اور اہمیت دیتے تھے کہ ایسا سوچنا ہمارے نزدیک غیر اخلاقی بات تھی تیسرا اس کے ایک ہاری کا بیٹا بوٹا ہمیں ہر وقت گھماتا پھراتا رہتا تھا سو محبوب عالم کی کمی کبھی محسوس ہی نہیں ہوئی، ایک روز ہم چودھری چچا کے گھر کھانا کھارہے تھے کہ بوٹا بھاگا بھاگا آیا اور کان میں سرگوشی میں بولا جلدی آئو بابا تلہ کھالی ول گیا جے ان دنوں گھروں میں بیت الخلا نہ ہوتے تھے خواتین و مرد علی الصبح کھیتوں میں فراغت پاتے تھے جبکہ بوڑھے یا بیمار وقت کی قید سے آزاد تھے مگر جانا انہیں بھی جنگل ہی میں ہوتا تھا ہم بھی چچی کی ڈانٹ ڈپٹ کو نظر انداز کرکے روٹی ادھوری چھوڑ کر اس کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوے، اور ہم لوگ جونہی گائوں سے باہر نکلے تو سامنے کھائی تھی جسے چھوٹی نہر بھی کہا جاسکتا ہے اس کے کنارے پر ایک 90/100 سالہ بزرگ بیٹھا پیشاب کرہا تھا اس نے سفید کرتے کے ساتھ سفید دھوتی اور سفید داڑھی مونچھ کے ساتھ سفید ہی پگڑی باندھی ہوئی تھی اس کے لمبے قد کے برابر ایک لاٹھی پڑی تھی شاید اس کے سہارے وہ چلتا ہوگا بوٹا اسے دیکھتے ہی زور سے چلایا اوئے ویکھو بابے تلے دا۔۔۔۔۔۔۔۔کیڈا؟ بابے نے بھی اس کی چیخ سن لی وہ ایک دم لکڑی پکڑ کر کھڑا ہوا اور بوٹے کو گالیاں بکتے ہوے اس کی طرف بڑھا تو بوٹے نے مخالف سمت دوڑ لگادی اس شریر لڑکے کا بیچارہ بزرگ کہاں پیچھا کرسکتا تھا مگر جس طرح بابے تلے نے طیش دکھایا اور اس کی طرف مٹی کے روڑے اچھالے اس سے ان کے درمیان پرانی رنجش کا بخوبی اندازہ ہوا اس کے بعد ہمیں گائوں میں جب بھی بابا تلہ نظر آیا ہم نے گلی بدل دی یا واپس پلٹ گئے پھر انہی دنوں والد صاحب کے اصرار پر میں چچا کے پاس نواب شاہ چلا گیا جہاں تعلیم کا دوبارہ سلسلہ جوڑا گیا اور اس دوران 1972/73 میں والدین بھی گلاب لغاری کو خیر باد کہ کر دوسری بار ہجرت کرکے سکھر منتقل ہوگئے، پھر برسوں بعد پی ٹی وی پر محبوب عالم کو وارث ڈارمہ میں چودھری وارث کے ایک نئے روپ میں دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے تب بڑی باجی نے ہمیں سکھر سے خط کے ذریعے آگاہ کیاکہ یہ چودھری وارث در اصل حاجی لعل دین کا بیٹا محبوب عالم ہے، موت سے چند ماہ پہلے میں اسے کراچی میں ایک تقریب میں ملا جس میں میں بطور رپورٹر شریک تھا اور وہ دیگر فنکاروں کے ساتھ خاص مہمان تھا تقریب کے بعد مینے اس سے اپنا تعارف کروایا تو وہ حیرت زدہ مجھے کافی دیر تکتا رہا پھر ایک ایک کرکے سب کی خیریت پوچھنے لگا مگر نہ اس نے رابطہ نمبر مانگا نہ مینے دیا کچھ ماہ بعد اچانک یہ جانکاہ خبر ملی کہ محبوب عالم کا انتقال ہوگیا اس کے مرنے کی عمر نہ تھی میری آنکھوں کے سامنے حاجی لعل دین گوٹھ میں گزرے ماہ و دن ایک فلم کی طرح گھومنے لگے، ماں باپ کا لاڈلہ پورے گائوں کا مالک شہرت و دولت جس کے پیروں کی لونڈی بن چکی تھی وہ بھی بے وقت موت کو ٹال نہ سکا مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب اس کے ڈرامہ کی کوئی قسط آنی ہوتی ملک بھر تو کجا پڑوسی ملکوں کی بھی گلیاں سنسان ہو جاتیں ایسی شہرت اور عوامی پسندیدگی بہت کم فنکاروں کو نصیب ہوتی ہے مگر موت برحق ہے اور ہر ذی روح کو اس کا مزا چکھنا ہے، اللہ اکبر۔

اپنا تبصرہ بھیجیں