سندھ ہائیکورٹ کامختیارلاشاری کےاغوا کا مقدمہ درج نہ کرنےپرڈی آئی جی ایسٹ کو نوٹس

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)عدالت نےایس ایس پی کمپلینٹ سیل ڈسٹرکٹ ملیر، ایس ایچ او تھانہ بن قاسم، ایس ایچ او تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوے رپورٹ طلب کرلی-مختیار لاشاری کے بہنوئی پرویز نے لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ کے توسط سے متفرق درخواست داخل کی تھی-

درخواست میں ایس ایس پی ملیر ، ایس ایچ او بن قاسم ٹاؤن اور ایس ایچ او تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن کو فریق بنایا گیا
مورخہ 11.6.25 کو درخواست گزار کے بھائی کو اس کے گھر سے رات کے 2.00 بجے اغوا کیا گیا ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ

درخواست گزار نے اس واقعہ کی اطلاع 15پولیس اور تھانہ بن قاسم سمیت پولیس کے تمام افسران کو مختیار لاشاری کے اغوا کا مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواستیں دیں لیکن کوئی قانونی کاروائی نہیں ہوئی ۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ

درخواست گزار نے ایڈیشنل سیشن جج کورٹ نمبر 6 کراچی ایسٹ میں اپنے بہنوئی کے اغوا کا مقدمہ درج کرانے کے لیے 22اے کے تحت پٹیشن داخل کی۔ لیاقت علی خان گبول۔ایڈووکیٹ

ایڈیشنل سیشن جج کورٹ نمبر 6 کراچی ملیر نے ڈی آئی جی ایسٹ کو دی ایس پی رینک کا افسر مقرر کرکے 15 دن میں انکوائری کا حکم دیا۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ

15 دن گزرنے کے باوجود بھی ڈی آئی جی ایسٹ نے انکوائری افسر مقرر نہیں کیا تو درخواست گزار نے توہین عدالت کی درخواست سیشن جج کے پاس داخل کی۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ

مغوی کو اغوا ہوے ایک ماہ 14 دن ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک نہ انکوائری ہونی ہے اور نہ اغوا کا مقدمہ درج ہوا پے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ

مغوی کی فیملی بہت پریشان ہے ابھی تک مختیار لاشاری کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ

مغوی کی فیملی تھانہ اور پولیس کے افسران کے دفاتر کے چکر کھاکر تھک چکی ہے لیکن مغوی کا ابھی تک سراغ نہیں مل سکا۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ

درخواست گزار کا قانونی اور بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے بہنوئی کے اغوا کا مقدمہ درج کراے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ

مغوی کو ابھی تک نہ تو ظاہر کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے کیس کیس میں ظاہر کرکے کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ

جسٹس میران محمد شاہ نے مورخہ 5 اگست 2025 تک نوٹس جاری کرتے ہوے رپورٹ طلب کرتے ہوے سماعت ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں