کراچی(ایچ آراین دبلیو)جامعہ کراچی کےوائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرخالد محمودعراقی نے کہا کہ جامعات کو معاشرے اور صنعت سے مربوط ہونا چاہیئے، تاہم بدقسمتی سے پاکستان میں تاحال ہم نے تعلیمی اداروں اور صنعت کے مابین مضبوط روابط قائم نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ محققین اور طلبہ کو سخت محنت کرنا ہوگی، کیونکہ یہاں کچھ بھی بغیر محنت کے حاصل نہیں ہوتا۔ صنعت صرف ان افراد کو تسلیم کرتی ہے جو مہارت اور محنت کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں اور صنعتی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ڈاکٹرخالدعراقی نےمزید کہا کہ صرف یہ دعویٰ کرنا کہ ہم کسی شعبےمیں ممتاز ہیں، لیکن عملی کارکردگی صفر ہو، تو صنعت میں بقا ممکن نہیں۔ جدید کاروباری دنیا میں چیلنجز کا سامنا ہے اور صرف ڈگری کافی نہیں، بلکہ مہارتوں کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نےشعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی میں آئس بریکر فاؤنڈیشن ریسرچ لیب جس میں تصور سے حقیقت تک: ایک فعال فریز ڈرائیڈ فوڈ پروٹوٹائپ (فریز ڈرائر) تیار کیا اور لانچ کیاگیا، جو پاکستان کی فوڈ انڈسٹری میں کمرشل پیمانے پر پیداوار اور جدت کی راہ ہموار کرتا ہے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ماسٹرکانفرنس ہال کا بھی افتتاح کیاگیا۔
ڈاکٹر خالدعراقی نے کہاکہ بحیثیت وائس چانسلر میری ہمیشہ یہی ترجیح رہی ہے کہ نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے اور ایسے پروگرامز متعارف کرائے جائیں جن کی مارکیٹ میں طلب ہو۔ ہمارا مقصد صرف بے روزگار گریجویٹ پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایسی افرادی قوت تیار کرنا ہے جو ملکی صنعت و معیشت میں مثبت کردار ادا کر سکے۔
ٓآئس بریکر فاؤنڈیشن کے چیئر مین محمدعلی اور نائب صدر شعیب شنگانی نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، جہاں ایک بڑی اور توانائی سے بھرپور آبادی موجود ہے۔ اس کے باوجود، بدقسمتی سے ہم اب تک درآمد شدہ توانائی پر انحصار کرتے چلے آ رہے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنے وسائل کو ترقی دے کر خود کفیل بنیں۔انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اس مستقل انحصار نے ہماری معیشت کی ترقی کی رفتار کو محدود کیا ہے اور ہماری صنعتوں کی مکمل صلاحیت کے حصول میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے قدرتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے خود انحصاری کی جانب قدم بڑھائیں تاکہ قومی معیشت کو مستحکم اور پائیدار بنایا جا سکے۔
شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹر سید محمد غفران نے کہا کہ فریز ڈرائیڈ خوراک کی عالمی منڈی کا حجم جوکہ 2024 میں 30.43 بلین امریکی ڈالر تھا، 2034 تک تقریباً 56.27 بلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو 2025 سے 2034 کے درمیان 6.34 فیصد کی کمپاؤنڈ سالانہ شرحِ نمو (CAGR) سے ترقی کرے گی۔پاکستان کی کل پھل و سبزیوں کی پیداوار کا تقریباً 91% حصہ مقامی طور پر تازہ کھایا جاتا ہے، جب کہ صرف 9% حصہ پروسیس یا برآمد ہوتا ہے۔تازہ پھل و سبزیوں کا صرف 6فیصد حصہ برآمد کیا جاتا ہے، اور محض 3% کو ویلیو ایڈیڈ مصنوعات (جیسے پلپس، کنسنٹریٹس، فریز اور محفوظ شدہ خوراک) میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر غفران سعید نے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ، چین، جاپان، جرمنی، ہالینڈ اور آسٹریلیا میں اس ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جب کسی فصل یا پروڈکٹ کی قیمت کم ہو جاتی ہے یا مارکیٹ میں سپلائی زیادہ ہو، تو اسے فریز ڈرائی کر کے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ بعد ازاں، جب مارکیٹ میں ان اشیاء کی مانگ بڑھتی ہے یا قیمتیں اوپر جاتی ہیں، تو یہی مصنوعات قیمتی داموں برآمد کر دی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہ پاکستان میں بھی سبزیاں اور پھل مختلف موسموں میں بڑی مقدار میں پیدا ہوتے ہیں، لیکن اکثر فصلیں ضائع ہو جاتی ہیں کیونکہ ان کو محفوظ رکھنے کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر فریز ڈرائنگ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرے تو پاکستان نہ صرف اپنی زرعی پیداوار کو ضائع ہونے سے بچا سکتا ہے، بلکہ عالمی مارکیٹ میں فریز ڈرائی مصنوعات برآمد کر کے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ بھی حاصل کر سکتا ہے۔
قبل ازیں چیئر مین شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسرڈاکٹر عبدالحق نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ میں ہونے والی تدریسی وتحقیقی سرگرمیوں اور آئس بریکر فاؤنڈیشن ریسرچ لیب کی اہمیت اور ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
اس موقع پر مختلف صنعتوں سے وابستہ افرادجن سی ای اوپاپولر گروپ آف انڈسٹریززبیر امام ملک، صدرکراچی ایسوسی ایشن آف سوئٹس اینڈ نمکوشیخ تحسین،بائیو مصدرکے سی ای حسان بلگرامی،عمرقاسم عمرسن لال قلعہ اورٹاؤن چیئرمین گلشن ٹاؤن ڈاکٹرفواداحمد ودیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہارکیا اور اس کو اکیڈیمیاء اور انڈسٹریز کے مابین ایک پل قراردیا۔


