کوئٹہ(ایچ آراین ڈبلیو) بلوچستان ہائی کورٹ نے بجلی چوری کے الزام میں شہریوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کو *قانون کی خلاف ورزی* قرار دیتے ہوئے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے بجلی چوری کے الزام میں شہریوں پر کیے گئے تمام مقدمات کو فوری طور پر *خارج کرنے کا حکم* دے دیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ واپڈا اہلکار نہ تو خود بجلی چوری کا مقدمہ درج کروا سکتے ہیں اور نہ ہی پولیس کو اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل ہے۔ ہائیکورٹ کے مطابق، بجلی چوری کی ایف آئی آر درج کرنا بذات خود قانون کے خلاف ہے۔
اس فیصلے کے بعد، عدالت نے عوام کو بھی آگاہ کیا ہے کہ اگر کوئی واپڈا اہلکار ان کے خلاف بجلی چوری کی کوئی ایف آئی آر درج کرواتا ہے، تو متاثرہ شہری ایسے واپڈا اہلکاروں کے خلاف اور ایف آئی آر درج کرنے والے متعلقہ ایس ایچ او (اسٹیشن ہاؤس آفیسر) کے خلاف قانون کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کروا سکتے ہیں۔
اس فیصلے کو عام شہریوں کے لیے ایک بڑی ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور لوڈشیڈنگ کے باعث عوام پہلے ہی شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ یہ فیصلہ واپڈا کے مبینہ غیر قانونی اقدامات کے خلاف شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔


