کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر واٹر کارپوریشن نے پانی کی چوری کے خلاف ایک بڑا گرینڈ آپریشن کامیابی سے مکمل کرلیا اس کاروائی کی نگرانی چیف آپریٹنگ آفیسر واٹر کارپوریشن انجینئر اسداللہ خان نے کی جبکہ اینٹی واٹر تھیفٹ سیل اورچیف سیکورٹی آفیسر سمیت واٹر کارپوریشن کا عملہ بھی آپریشن میں شریک تھا کاروائی لانڈھی کے علاقے لیبر اسکوائر اسپتال چورنگی کے قریب عمل میں لائی گئی جہاں خفیہ اطلاع پر کی جانے والی کاروائی کے دوران پانی کی چوری میں ملوث تین نجی ٹیکسٹائل فیکٹریوں کو بے نقاب کیا گیا ان میں ابراہیم ٹیکسٹائل، ایم این ٹیکسٹائل اور فیروز ٹیکسٹائل شامل ہیں جو پانی چوری جیسے سنگین جرم میں براہ راست ملوث پائی گئیں سی او او واٹر کارپوریشن انجینئر اسداللہ خان کے مطابق ان فیکٹریوں نے ہالیجی کنڈیوٹ سے 6 انچ قطر کے غیر قانونی سمر پمپ لگا رکھے تھے جن کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں گیلن پانی چوری کیا جا رہا تھا اس عمل سے شہریوں کو ملنے والے پانی کے حصے پر براہ راست اثر پڑ رہا تھا اور شہر میں پانی کی قلت میں اضافہ ہو رہا تھا واٹر کارپوریشن کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر فوری کاروائی کرتے ہوئے تمام غیر قانونی سمر پمپ منقطع کر دیے اور پانی چوری کے نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کردیا سی او او واٹر کارپوریشن کا کہنا تھا کہ پانی چوری میں ملوث تمام عناصر کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی اور کسی بھی ذمہ دار کو بخشا نہیں جائے گا انہوں نے واضح کیا کہ پانی صرف شہریوں کا حق ہے اس پر کسی بھی غیر قانونی قبضے یا چوری کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور جو افراد شہریوں کے حق پر ڈاکہ ڈالیں گے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا سی او او نے مزید کہا کہ اگر واٹر کارپوریشن کا کوئی اہلکار اس جرم میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بھی سخت ترین محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
40


