کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)مشترکہ مفادات کی کونسل میں کینالوں کی تعمیر کے فیصلے کے منٹس جاری کرکے صوبوں کو ارسال کردیئے گئے-پانی کے عدم دستیابی کے باعث 1991ء سے اب تک کوئی نیا کینال تعمیر نہیں کیا گیا-پانی کا معاہدہ صوبوں کے پانی کو تحفظ فراہم کرتا ہے اس حد تک کہ پاک بھارت جنگ میں بھی پانی کے حصے کو تحفظ حاصل ہے-
1991ء سے لیکر اب تک سندھ میں ایک بھی کینال نہیں نکالا گیا کیونکہ پانی دستیاب نہیں ہے-جنوری 2024ء میں نگراں حکومت کے دور میں ارسا نے غلط معلومات کی بنیاد پر ارسا نے پانی کی دستیابی کا سرٹیفکیٹ جاری کیا-25 اپریل 2025ء کو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں وفد نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور مسئلہ حل کرنے پر اتفاق ہوا-
ملاقات میں طے کیا گیا کہ اس مسئلہ کو مشترکہ مفادات کے کونسل میں اتفاق رائے سے حل کیا جائے گا-ہم وفاقی حکومت کے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ کینالوں کا مسئلہ باہمی اتفاق سے حل کیا جائے گا-وفاق اور صوبوں کے درمیان اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے بیرونی جارحیت کے خلاف پاکستان کے عوام متحد ہیں-
کینالوں کو مسئلہ اتفاق رائے سے حل کیا جائے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا اجلاس سے خطاب-کینالوں کا مسئلہ مفروضوں کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے 1991ء کا پانی کا معاہدہ صوبوں کو اختیار دیتا ہے کہ وہ نئے اپنے حصے سے کینال نکالیں-بد اعتمادی کے باعث حکومت پنجاب نے ارسا کی 15 سائٹس میں سے 12 سائٹس پر ٹیلی میٹری سسٹم لگادیا ہے-
پنجاب نے 100 ارب روپے ڈرپ اریگیشن اور کینالوں کی لائننگ کیلئے منظور کئے ہیں تاکہ مؤثر مکینزم تشکیل پاسکے-ملک کے وسیع تر مفاد میں وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت کینالوں کا مسئلہ باہمی اتفاق سے حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں-باہمی اتفاق سے کینالوں کا مسئلہ حل کرنے کی وفاقی حکومت کی پالیسی کی مکمل حمایت کرتے ہیں-
صوبوں کو 1991ء کے معاہدے کے تحت پانی کا حصہ ملنا چاہیئے چشما رائٹ بنک کینال کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ 1991ء معاہدے میں کہا گیا تھا کہ ہر صوبے میں ایک آبپاشی سسٹم تعمیر کیا جائے گا-ابھی تک خیبر پختونخوا میں ایک بھی کینال تعمیر نہیں کیا گیا 2016ء میں وفاقی حکومت بے 65 اور 35 فیصد کے حساب سے منصوبہ مکمل کرنے کا فیصلہ کیا تھا-
تاحال اس کو شروع نہیں کیا جاسکا ہے وفاقی حکومت اسی طرح یہ مسئلہ حل کرے جیسے پیٹرولیم لیوی سے کچھی کینال بلوچستان کا مسئلہ حل کیا تھا-صوبوں کو قاضی کمیٹی کے طریقہ کار کے مطابق نیٹ ہائڈل پرافٹ 1991ء سے کئی مرتبہ دیا گیا ہے-
2016ء میں وفاقی حکومت اور کے پی کے میں نیٹ ہائڈرو پرافٹ کیلئے معاہدہ ہوا تھا وفاقی حکومت نے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی-یہ رپورٹ 2019ء میں پیش کی گئی اس پر مشترکہ مفادات کی کونسل نے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی یہ رپورٹ مشترکہ مفادات کی کونسل کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے-
وزیر اعظم آئندہ اجلاس جلد بلاکر خیبرپختونخوا کا یہ اہم مسئلہ حل کریں-کوشش کریں گے کہ جون 2025ء کے آخر تک اجلاس بلانے کی کوشش کریں گے-تمباکو پر وفاقی حکومت ایکسائیز ڈیوٹی وصول کررہی ہے حالانکہ 78 فیصد تمباکو کی فصل خیبرپختونخوا میں ہوتی ہے-جبکہ کسی دوسری فصلوں پر ایکسائیز ڈیوٹی نہیں لی جاتی-ہماری تجویز ہے کہ دیگر فصلوں کی طرح تمباکو کی فصل سے بھی ایکسائیز ڈیوٹی ختم کرے-تمباکو سے وصول کی جانے والی ایکسائیز ڈیوٹی سے خیبرپختونخوا کو بھی حصہ دیا جائے 200 ارب روپے سالانہ وصول کئے جاتے ہیں-سابقہ فاٹا کیلئے این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی نہیں کی گئی 11 ویں این ایف سی ایوارڈ سے قبل سابقہ فاٹا کے اضلاع کیلئے خصوصی مالی اقدام کیا جائے-


