کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)IBA پاس JEST/PST امیدوار 2021 سے اپنی تعلیمی قابلیت، محنت، اور میرٹ کے بل بوتے پر نوکری کے منتظر ہیں، لیکن پیپلز پارٹی کی نااہلی اور وزیر تعلیم سردار شاہ کی خاموشی نے ان کے خوابوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
کیا یہ وہی سندھ حکومت ہے جو میرٹ کی بات کرتی ہے؟ یا یہ وہی سردار شاہ ہیں جو تعلیمی نظام کے سب سے بڑے دعوے دار بنتے ہیں؟ اگر SNE منظور ہو چکی، بجٹ آ چکا، سیٹیں موجود ہیں تو پھر نوکریاں کیوں نہیں دی جا رہیں؟
کیا صرف اس لیے کہ یہ نوجوان سفارش، رشوت یا پارٹی وابستگی کے بغیر آئے ہیں؟
ان سوالات کو سندھ اسمبلی میں اٹھانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اے اور ضلع ساؤتھ کے قائم مقام صدر سجاد علی سومرو احتجاجی کیمپ میں پہنچے، امیدواروں کے ساتھ بیٹھ کر نہ صرف اظہارِ یکجہتی کیا بلکہ وعدہ کیا کہ وہ اس ظالمانہ رویے کے خلاف اسمبلی کے فلور پر حکومتِ سندھ کو بے نقاب کریں گے۔
سجاد سومرو نے اعلان کیا:
> “سردار شاہ صاحب! اگر آپ کے پاس جواب نہیں تو وزارت تعلیم چھوڑ دیں، کیونکہ سندھ کا نوجوان آپ کی بے حسی اور دھوکہ دہی مزید برداشت نہیں کرے گا۔ ہم نوجوانوں کے حق کی جنگ ہر فورم پر لڑیں گے، اور حق لے کر رہیں گے!”
یہ پیغام ہے اُن سب کو جو سمجھتے ہیں کہ سندھ کے نوجوان کمزور ہیں — ہم جاگ چکے ہیں، اب حساب ہوگا!


