کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)نجی یونیورسٹی (آئی بی اے )کی خاتون لیکچرار کی ہراسانی کی شکایت درج-نجی یونیورسٹی نے صوبائی محتسب کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا-عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ و دیگر کو 21 اگست کے لیے نوٹس جاری کردئیے-
یونیورسٹی کی جانب سے دیا گیا تین لاکھ روپے کا چیک اور تحریری معافی نامہ درخواست کے فیصلے تک خاتون پروفیسر کے حوالے نا کیا جائے-خاتون لیکچرار نے نجی یونیورسٹی کے رجسٹرار کے خلاف ہراسانی کی شکایت کی تھی-انکوائری کمیٹی نے رجسٹرار کو ہراسانی کے الزامات سے بری کرنے کی سفارش کی تھی-
انکوائری کمیٹی نے یونیورسٹی کو ذہنی اذیت پہنچنے پر تین لاکھ روپے ہرجانہ اور تحریری معافی نامہ بھی دینے کی سفارش کی-انکوائری کمیٹی نے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے یونیورسٹی کو سفارشات پیش کی تھیں-یونیورسٹی کے ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر نے سفارشات دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیکر ناقابل عمل قرار دی تھیں-
شکایت کنندہ لیکچرار نے یونیورسٹی کے فیصلے کے خلاف صوبائی محتسب میں اپیل دائر کی تھی-صوبائی محتسب نے ہراسمنٹ کی شکائت کے حل کے لئے نئے ذمہ دار کی تقرری اور انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے-یونیورسٹی نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس خلجی عارف کو ہراسانی سے متعلق شکایت کے حل کی ذمہ داری دی ہے-یونیورسٹی انتظامیہ نے فیصلے کا اختیار سپریم کورٹ کے سابق جج کو دیا ہے-
انتظامیہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات کے مطابق تین لاکھ روپے بطور ہرجانہ اور معافی نامہ جسٹس خلجی عارف کے حوالے کرنا چاہتی ہے-صوبائی محتسب کا فیصلہ معطل کیا جائے تاکہ انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر ازسرنو فیصلہ کیا جاسکے-


