کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ڈسٹرکٹ سینٹرل نیو کراچی میں غیر قانونی پارکنگ سے لاکھوں روپے بھتہ وصولی کئے جانے کا انکشاف-پارکنگ مافیا نے کے ایم سی، ٹریفک پولیس، علاقائی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے عدالتی احکامات نظراندازکردیئے-گذشتہ روز تھانہ نیو کراچی میں پارکنگ کی مد میں بھتہ وصولی پر جبران نامی شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی-
جبران کو نیو کراچی سندھ گورنمنٹ اسپتال کے باہر سے پارکنگ کے نام پر وصولی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا-سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھتہ وصولی پر تھانہ نیو کراچی نے ت پ دفع 341 کی ایف آئی آر کا اندراج کیوں کیا؟سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق غیر قانونی پارکنگ فیس کو بھتہ وصول کرنے کے مترادف قرار دیا ہے-
معزز عدالت کے احکامات کو مکمل نظر انداز کرنا کیا توہین عدالت نہیں؟حیرت انگیز طور پر کل ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود آج جبران پھر سے پارکنگ وصولی کررہا ہے-پارکنگ مافیا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جوتی کی نوک پر رکھ لیا ہے-شہریوں سے اضافی لوٹ مار پر متعلقہ اداروں نے چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے-
کراچی میں پارکنگ مافیا بے لگام ہوگئی ہے، پارکنگ مافیا کا شکنجہ قانون سے زیادہ مضبوط ہوگیا ہے-شہر کے مصروف ترین بازاروں میں ضلعی انتظامیہ کے زیر انتظام چلنے والی پارکنگ سائٹس سے گاڑیاں چوری ہونے کی وارداتیں بھی عام ہیں-سماجی حلقوں کی شکایات پر پارکنگ مافیا نے سماجی رہنماؤں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر کے اندراج کو اپنا وطیرہ بنالیا ہے-
ضلعی انتظامیہ کی چشم پوشی بھی انتظامی شفافیت پر سوالیہ نشان بن گئی ہے-آئی جی سندھ صاحب اس معاملے پر خصوصی توجہ دیں کہیں ایسا نہ ہو کہ سندھ پولیس پر سے شہریوں کا اعتماد ختم ہوجائے-


