7

حکومت سندھ اور آغا خان یونیوسٹی میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو): شمولیتی تعلیم کے فروغ اور خصوصی ضروریات رکھنے والے افراد کو بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر حکومت سندھ اور آغا خان یونیورسٹی۔انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ (اے کے یو۔آئی ای ڈی) نے جمعہ کے روز 43 کروڑ 92 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے پانچ سالہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے، جس کے تحت خصوصی تعلیمی ضروریات (ایس ای این) یونٹ قائم کرنے اور سندھ بھر میں پائیدار، شواہد پر مبنی جامع تعلیمی نظام تشکیل دینے کا منصوبہ ہے۔

ایم او یو پر دستخط کی تقریب چیف منسٹر ہاؤس میں ہوئی جس کے گواہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ تھے۔ معاہدے پر حکومت سندھ کے محکمہ بااختیاری معذور افراد (ڈی ای پی ڈی) اور آغا خان یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ (اے کے یو۔آئی ای ڈی) کے درمیان دستخط کیے گئے۔

معاہدے کے تحت اے کے یو۔آئی ای ڈی میں خصوصی تعلیمی ضروریات کا ایک مخصوص یونٹ قائم کیا جائے گا، جو شمولیتی تعلیم کے شعبے میں اساتذہ کی تعلیم، پیشہ ورانہ ترقی، تحقیق، جدت، پالیسی معاونت اور بہترین طریقہ کار کے عملی مظاہرے کے لیے مرکزِ امتیاز کے طور پر کام کرے گا۔ شراکت داری کے تحت خصوصی تربیتی سہولیات، جن میں حسی کمرے، تھراپی رومز اور وسائل مراکز شامل ہیں، کی تیاری پر بھی توجہ دی جائے گی، جبکہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور عوامی آگاہی کے اقدامات میں بھی معاونت فراہم کی جائے گی۔

تقریب میں آغا خان یونیورسٹی کے صدر اور وائس چانسلر ڈاکٹر سلیمان شاہاب الدین، ڈین اے کے یو۔آئی ای ڈی پروفیسر ڈاکٹر فرید پنجوانی، یونیورسٹی کی سینئر قیادت، نیٹ ورک آف آرگنائزیشنز ورکنگ فار پرسنز ود ڈس ایبلٹیز پاکستان (این او ڈبلیو پی ڈی پی) کے نمائندگان، ترقیاتی شراکت داروں، ماہرین تعلیم، اعلیٰ سرکاری افسران اور تعلیم و معذوری کے شعبوں سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے معاہدے کو سندھ میں زیادہ جامع اور مساوی معاشرے کے قیام کی کوششوں میں ایک سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن ہماری اجتماعی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل ہے جس کا مقصد ایسا سندھ تشکیل دینا ہے جہاں ہر فرد کو، اس کی صلاحیت سے قطع نظر، سیکھنے، ترقی کرنے، اپنا کردار ادا کرنے اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ نے پالیسی اصلاحات، سماجی تحفظ کے پروگراموں، تعلیمی اقدامات اور ادارہ جاتی استحکام کے ذریعے انسانی ترقی، سماجی شمولیت اور خصوصی ضروریات رکھنے والے افراد کے حقوق کو مسلسل ترجیح دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمت کی یادداشت محض ایک رسمی معاہدہ نہیں بلکہ سندھ بھر میں جامع اور خصوصی ضروریات کی تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اسٹریٹجک شراکت داری ہے۔ اس تعاون کے ذریعے ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ، اساتذہ کی تیاری بہتر بنانے، تحقیق کو مضبوط اور معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ شراکت داری شواہد پر مبنی پالیسی سازی، پیشہ ورانہ ترقی، عوامی آگاہی مہمات اور کمیونٹی کی مضبوط شمولیت کے ذریعے ایک زیادہ ذمہ دار تعلیمی نظام تشکیل دینے میں مدد دے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں جامع اور خصوصی ضروریات کی تعلیم میں نئے تعلیمی راستوں، ایسی اعلیٰ معیار کی تحقیق کے منتظر ہیں جو عوامی پالیسی کی تشکیل میں معاون ہو اور ایسی مضبوط پالیسی وکالت کے خواہاں ہیں جو شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ اقدام پاکستان کے لیے ایک نمونہ ثابت ہوگا اور یہ ظاہر کرے گا کہ حکومتیں اور ممتاز تعلیمی ادارے مل کر زیادہ جامع، علم پر مبنی اور مساوی مستقبل کی تعمیر کیسے کر سکتے ہیں۔

اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئیے مل کر ایسا سندھ تشکیل دیں جہاں ہر بچے کی قدر کی جائے، ہر طالب علم کی معاونت کی جائے اور ہر شہری کو اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع حاصل ہو۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آغا خان یونیورسٹی کے صدر اور وائس چانسلر ڈاکٹر سلیمان شہاب الدین نے کہا کہ یہ شراکت داری اس مشترکہ عزم کی عکاس ہے کہ ہر بچے کو، اس کی صلاحیت سے قطع نظر، بامعنی اور اعلیٰ معیار کے تعلیمی مواقع تک رسائی حاصل ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایک جامع تعلیمی نظام ایک مساوی اور خوشحال معاشرے کی تعمیر کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کو حکومت سندھ کے ساتھ شراکت داری پر فخر ہے، جس کے ذریعے ایسے پائیدار ادارہ جاتی طریقہ کار تشکیل دیے جائیں گے جو معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں کی معاونت اور اساتذہ و پالیسی سازوں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنائیں گے۔

ڈاکٹر شہاب الدین نے کہا کہ تعلیم، تحقیق اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں اے کے یو کی طویل عرصے سے موجود مہارت جدید حل کی تیاری، شواہد پر مبنی علم پیدا کرنے اور جامعیت اور مساوی مواقع کو فروغ دینے والی سرکاری شعبے کی اصلاحات میں معاونت فراہم کرے گی۔

اس سے قبل محکمہ بااختیار بنانے معذور افراد کے سیکریٹری طحہٰ احمد فاروقی نے شرکا کو شراکت داری کے وژن، مقاصد اور دائرہ کار کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ایک ایسے جامع تعلیمی ماحول کی تشکیل کی جانب اہم پیش رفت ہے، جہاں معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچے معیاری تعلیم اور اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری معاون خدمات تک رسائی حاصل کر سکیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ تعاون کے تحت اساتذہ کی تیاری اور تربیت، ادارہ جاتی استحکام، پالیسی سازی، تحقیق، کمیونٹی آگاہی اور خصوصی تعلیمی ضروریات رکھنے والے طلبہ کے لیے پائیدار معاونت کے طریقہ کار پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

اے کے یو۔آئی ای ڈی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر فرید پنجوانی نے مفاہمت کی یادداشت کے فریم ورک پر بریفنگ دی اور مجوزہ خصوصی تعلیمی ضروریات یونٹ کے منصوبوں کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ یونٹ تربیت، تحقیق، جدت اور پالیسی معاونت کے مرکز کے طور پر کام کرے گا، جبکہ سندھ میں جامع تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے فیکلٹی ڈویلپمنٹ، پیشہ ورانہ سرٹیفکیشن پروگرامز اور شواہد پر مبنی اقدامات میں بھی سہولت فراہم کرے گا۔

یکم جولائی 2026 سے 30 جون 2031 تک مؤثر پانچ سالہ شراکت داری کے تحت ادارہ جاتی استحکام، اساتذہ کی تعلیم اور پیشہ ورانہ ترقی، تحقیق اور شواہد کی تیاری، پالیسی مشاورتی خدمات، عوامی آگاہی مہمات اور جامع تعلیم میں نظام کی سطح پر اصلاحات کے شعبوں میں وسیع تعاون کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

مالیاتی فریم ورک کے تحت حکومت سندھ 27 کروڑ 85 لاکھ 60 ہزار روپے، جبکہ اے کے یو۔آئی ای ڈی 16 کروڑ 6 لاکھ 50 ہزار روپے فراہم کرے گا، جس سے شراکت داری کی مجموعی مالیت 43 کروڑ 92 لاکھ 10 ہزار روپے سے زائد بنتی ہے۔ اس اقدام کے تحت معذوری کی شمولیت کے لیے کام کرنے والے شراکت دار اداروں، جن میں این او ڈبلیو پی ڈی پی اور دیگر متعلقہ تنظیمیں شامل ہیں، کو بھی صوبے بھر میں منصوبے پر عملدرآمد، پالیسی وکالت، تربیت اور کمیونٹی رابطہ کاری کے لیے شامل کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں