ایف بی آرکوگرفتاری کےاختیارات دینا آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے، احمد ادریس چوہان

حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے وفاقی بجٹ 2025-26میں سیلزٹیکس ایکٹ کی نئی دفعہ 37AA شامل کیے جانے پر شدید غم و غصے اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِس ترمیم کے ذریعے ایف بی آر افسران کو بغیر وارنٹ کسی بھی تاجر، صنعتکار، کمپنی کے سی ای او، ڈائریکٹر یا سی ایف او کو محض شک کی بنیاد پر گرفتارکرنےکا اختیار دینا پاکستان کی تاریخ کا بدترین قانون ہے، جو نہ صرف آئین و قانون بلکہ انسانی اور کاروباری آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اِس دفعہ کے تحت ایف بی آر کے افسران کو کوئی عدالت یا عدالتی اِجازت لئے بغیر محض “شک” کی بنیاد پر گرفتاری اور 14دن کی حراست میں رکھنے کا اختیار دیا گیا ہے، جو انصاف کے بنیادی اُصولوں کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ یہ کیسا “فنانشل ریفارم” ہے جو سرمایہ کار کو گرفتار کر کے خوف کی فضا پیدا کر رہا ہے؟

احمد ادریس چوہان نے سوال اُٹھایا کہ کیا پاکستان میں صنعتکار ہونا اَب جرم ہے؟ کیا حکومت واقعی کاروباری ترقی چاہتی ہے یا ملک میں سرمایہ کاروں کو بد دل کر کے مجبور کرنا چاہتی ہے کہ وہ اپنی صنعتیں بنگلہ دیش، ویتنام، ملائشیا یا متحدہ عرب امارات جیسے محفوظ اور کاروبار دوست ممالک میں منتقل کر دیں جہاں اِس نوعیت کی کوئی گرفتاری کی شقیں نہیں ملتیں؟ آج دُنیا بھر میں کاروباری آسانیوں کی بات کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان میں تاجروں کو مجرم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ملک میں ایسا غیر قانونی اور بلا جواز قانون موجود نہیں کہ محض شک کی بنیاد پر ایف بی آر اَفسر کو گرفتاری کا اختیار دے دیا جائے۔ اگر کوئی فرد ٹیکس چوری میں ملوث ہو تو شفاف عدالتی نظام موجود ہے۔ ایف بی آر نہ کوئی عدالت ہے، نہ تحقیقاتی ادارہ اور نہ ہی گرفتاری کا مجاز فورم ہے۔

قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے کہا کہ اِس دفعہ کا اندراج “سرمایہ کشی” اور “معاشی دہشتگردی” کے مترادف ہے۔ جب تک یہ شق واپس نہیں لی جاتی، پاکستان کا کاروباری طبقہ نہ خود محفوظ ہو گا اور نہ ہی بیرونی سرمایہ کاری اِس ملک میں آئے گی۔

اُنہوں نے کہا کہ سینیٹ کی فنانس کمیٹی نے بھی اِس شق پر اعتراض کیا اور قرار دیا کہ یہ “کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی)” کی خلاف ورزی اور آئینی تضاد ہے۔

اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ بجٹ میں تو ٹیکس نیٹ بڑھانے کی بات کی گئی ہے مگر اِس طرح کی گرفتاریوں سے ٹیکس دہندہ طبقہ مزید زیر زمین ہو جائے گا۔ لوگ مزید چھپ کر کاروبار کریں گے یا ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

آخر میں اُنہوں نے حکومت سے فوری مطالبہ کیا کہ دفعہ 37AA کو بجٹ سے نکال کر فی الفور واپس لیا جائے، ورنہ ملک بھر میں تاجروں، صنعتکاروں اور بزنس فورمز کی جانب سے مشترکہ آئینی و قانونی احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاجر طبقہ اپنے آئینی، معاشی اور انسانی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں