ساہیوال(ایچ آراین ڈبلیو)پنجاب کے مختلف اضلاع میں خوف و دہشت کی علامت اور کئی سنگین مقدمات، میں مطلوب خطرناک ڈاکو صدی لوڑی بالآخر انجام کو پہنچ گیا۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) ساہیوال کی خصوصی ٹیم کے ساتھ خونریز پولیس مقابلے کے دوران، صدی لوڑی اپنے ہی سیتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق CCD ساہیوال کو خفیہ اطلاع ملی تھی، جس پر فوری کارروائی کی گئی۔ پولیس کی موجودگی بھانپتے ہی ڈاکوؤں نے شدید فائرنگ شروع کر دی۔ مقابلے کے دوران ایک پولیس افسر کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، تاہم خوش قسمتی سے گولی اس کے بلٹ پروف جیکٹ سے ٹکرا کر رہ گئی۔
ڈاکوؤں کی گولیوں سے سرکاری پولیس گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا، لیکن پولیس اہلکاروں نے ہمت نہ ہاری اور بھرپور جوابی کارروائی جاری رکھی۔ اندھیرے اور افراتفری کے عالم میں، صدی لوڑی خود اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا اور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
صدی لوڑی کے خلاف ڈکیتی، قتل، اغوا برائے تاوان، پولیس پر حملوں سمیت متعدد سنگین مقدمات درج تھے، اور حکومتِ پنجاب نے اس کے سر کی قیمت بھی مقرر کر رکھی تھی۔ سی سی ڈی کے ترجمان نے بتایا: “یہ کارروائی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف ایک بڑی کامیابی ہے، اور ہم آخری مجرم کی گرفتاری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔”
واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور صدی لوڑی کے فرار ہونے والے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔


