45

سنی تحریک کےنام پرثاقب اورشہزاد کی کھلےعام دھمکیاں اورمنشیات فروختگی

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) ڈیسٹرکٹ سینٹرل واحد کالونی میں خود کو سنی تحریک کا رہنما ظاہر کرنے والے مبینہ منشیات فروش ثاقب اور اس کے ساتھی شہزاد کی جانب سے علاقے میں منشیات فروشی کا دھندا کھلے عام جاری ہے ۔ مقامی افراد کے احتجاج سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور تحریری شکایات کے باوجود نارتھ ناظم آباد پولیس سنی تحریک کی کابینہ اور انسداد منشیات آئی جی سندھ کی ٹاسک فورس کی جانب سے کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی۔

ذرائع کے مطابق ثاقب اور شہزاد کا گروہ نہ صرف علاقے میں منشیات کی ترسیل اور فروخت میں ملوث ہے بلکہ وہ سنی تحریک کے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے مقامی آبادی کو دھمکیاں بھی دیتا ہے

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ان افراد نے علاقے میں ایسا ماحول قائم کر رکھا ہے جس میں نوجوان نسل تیزی سے منشیات کی طرف مائل ہو رہی ہے جب کہ معزز خواتین ، بزرگ اور خاندان خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مکینوں کا الزام ہے کہ جو بھی شخص ثاقب یا شہزاد کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اسے فوری طور پر جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے نارتھ ناظم آباد پولیس کے ذریعے کارروائی کا نشانہ بنایا جاتا ہے ثاقب کے کارندوں کی جانب سے ویڈیو بیانات بھی سامنے آ چکے ہیں جن میں انہوں نے ثاقب اور شہزاد کی مکمل سرپرستی میں منشیات فروشی کے تسلسل کا اعتراف کیا ہے

عوامی حلقوں اور سماجی کارکنوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ویسٹ اور دیگر اعلی حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں تاکہ عوام کو یہ یقین ہو سکے کہ منشیات کی لعنت کے خلاف حکومتی موقف صرف بیانات کی حد تک نہیں بلکہ عملی اقدام کا حصہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں