41

پولیس کے ہاتھوں تاجرلٹ گیا،پٹیشن کورٹ میں داخل کردی گئی

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سچل کی حدود میں پولیس کے ہاتھوں تاجر کے لٹنے کی پٹیشن کورٹ میں داخل کر دی گئی تفصیلات کے مطابق مدعی کو دو پولیس کانسٹیبلوں نے 125 پر اسے اغوا کر کے چوکی لے گئے جہاں مدعی عمران سے وردی کے زور پر خطیر رقم لوٹی گئی اور بعد میں دھونس دھمکی دے کر روانا کر دیا مدعی کے ویڈیو بیان کے مطابق ان ملزمان میں طارق بلیدی ، اور ایک اسکا ساتھی سپاہی اسے علی کمپلیکس کے گیٹ کے پاس سے اٹھا کر چوکی لے گئے جہاں بشیر نامی چوکی انچارج اور عبید نامی شخص جو بعد میں آئے ان سب کے خلاف کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی مدعی کا مذید کہنا ہے کہ جب اسے لوٹ مار کر کے ریلیز کیا گیا تو اس نے اپنے کسی میڈیا کے دوست سے بات کی کہ اسکی رقم واپسی کروائیں تو اسکے بعد مختلف نمبروں سے دھمکیا دی گئیں اور جھوٹے کیسوں میں ڈالنے کی دھمکی بھی دیتے ہوئے عمران کو جان سے مارنے گھر میں گھسنے کی دھمکی دی چوکی میں اس وقت مختلف منشیات بھی موجود تھیں جو مدعی کے سر ڈالنے اور اسے ڈرانے کی خاطر سامنے رکھی گئیں
علاقے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ چوکی ٹارچر سیل کے طور پر اور منشیات فروشوں سے ڈیل کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے اور آئے روز کوئی نا کوئی یہاں لٹ کر جاتا ہے اور طارق بلیدی پولیس والے رشتہ دار چچا اور بھائ بھائی بھی حاضر سروس ہیں اور اسکی پشت پناہی کرتے ہیں ان پولیس والوں کا علاقے میں پہلے سے رکارڈ خراب ہے اور کئیں بار شکایتیں موصول ہونے کی وجہ سے اسکو انکوئری کا سامنا رہا جہاں ایس ایس پی آفس میں موجود چچا کام آجاتے ہیں عمران نے آ جی صاحب اور اداروں سے اپیل کی ہے کہ ان کالی بھیڑوں کا صفایا کیا جائے انکے خلاف انکوائری کی جائے اور اس کیس سے منسلک لوگوں کو معطل کیا جائے تاکہ وہ کیس پر اثرانداز نا ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں