**کراچی: (ایچ آراین ڈبلیو)**ڈسٹرکٹ ساؤتھ پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے بوٹ بیسن میں پولیس اور مسلح ملزمان کے درمیان مبینہ مقابلے کے دوران ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار جبکہ دوسرے کو بغیر مزاحمت کے حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس کے مطابق تھانہ بوٹ بیسن کی پولیس پارٹی دورانِ گشت بلاک 1، سن رائز اپارٹمنٹ کے قریب موجود تھی کہ ایک مشکوک فورچونر گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی میں سوار افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔
پولیس کے مطابق جوابی کارروائی کے نتیجے میں ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا جبکہ دوسرے ملزم کو بغیر مزاحمت کے حراست میں لے لیا گیا۔
زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت **شہزیب عرف چورہ ولد نعمت خان** جبکہ دوسرے گرفتار ملزم کی شناخت **عرفان ولد روشن** کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کا ایک ساتھی **عدنان گل جدون ولد شیر گل** ایک M4 رائفل اور گولیاں پھینک کر کالی فورچونر گاڑی میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک M4 رائفل بمعہ راؤنڈز، دو عدد 30 بور پستول، خالی خول اور 5 زندہ راؤنڈز برآمد کیے گئے ہیں۔
زخمی گرفتار ملزم کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ دوسرے گرفتار ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے تھانے منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف ضابطے کے تحت کارروائی جاری ہے، جبکہ فرار ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ گرفتار ملزمان کا سابقہ کرمنل ریکارڈ بھی حاصل کیا جارہا ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
شہری علاقوں میں مسلح واقعات شہریوں، پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کی زندگیوں کے لیے خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔ ایسے واقعات میں قانون کے مطابق کارروائی، شفاف تفتیش اور زیرحراست افراد کے قانونی حقوق کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی بھی ملزم کے جرم یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ متعلقہ قانونی اور عدالتی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور عوامی مفاد سے متعلق آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر ڈسٹرکٹ ساؤتھ پولیس کراچی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور پولیس کے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ فائرنگ، اسلحے کی برآمدگی اور ملزمان کے مبینہ جرائم سے متعلق دعووں کی حتمی تصدیق متعلقہ تفتیش اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہوگی۔ خبر میں شامل افراد کے خلاف الزامات کو عدالتی فیصلے تک حتمی جرم تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔


