7

وزیراعظم سے رابطہ نہ ہوا تو لانگ مارچ کریں گے، ریلیف دینا ہوگا: حافظ نعیم

**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو):** امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی کے بعد بھی اگر حکومت نے جماعت اسلامی سے رابطہ کرکے عوام کو ریلیف دینے کے مطالبات پر پیش رفت نہ کی تو جماعت اسلامی اپنا احتجاج اور لانگ مارچ دوبارہ شروع کرے گی۔

منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مہنگائی، پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ ان کے مطابق پیٹرولیم لیوی عوام پر اضافی مالی بوجھ ہے اور جماعت اسلامی اس کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر دستخطی مہم شروع کی ہے۔ ان کے مطابق دو کروڑ سے زائد افراد سے دستخط لینے کے بعد اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیا جائے گا، جبکہ ملتان سے مارچ شروع کرنے اور جنوبی پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا سے قافلوں کی شمولیت کا منصوبہ ہے۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے کئی ادوار ہوچکے ہیں تاہم ان کے مطابق مطلوبہ نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وزیراعظم کو براہِ راست مداخلت کرکے معاملہ حل کرنا ہوگا۔

جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ ان کی جماعت پرامن احتجاج پر یقین رکھتی ہے اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ برقرار رہے گا۔ جماعت اسلامی نے اس سے قبل بھی اعلان کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ کو دوبارہ آگے بڑھایا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمن نے آئی پی پیز کو کی جانے والی کیپیسٹی پیمنٹس، حکومتی اخراجات اور پالیسی ریٹ پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومتی اخراجات کم کیے جائیں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی سے متعلق افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ایسے کسی اقدام کی مخالفت کرے گی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کا پرامن احتجاج آئینی حق ہے اور حکومت کو پی ٹی آئی کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرنے چاہییں۔

حافظ نعیم الرحمن نے پی ٹی آئی کے بعض مطالبات پر بھی مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور بانی پی ٹی آئی کی صحت، اسپتال منتقلی اور ملاقاتوں سے متعلق معاملات پر حکومت سے بات چیت کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے صومالیہ میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جاں بحق پاکستانیوں کی لاشیں وطن واپس لانے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور ان پر عائد ٹیکس و لیویز براہِ راست شہریوں کے روزمرہ اخراجات، سفری لاگت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ایندھن کی قیمتوں سے متعلق حکومتی فیصلوں میں عوامی مالی بوجھ، شفافیت اور معاشی اثرات کو اہمیت دینا عوامی مفاد سے متعلق معاملہ ہے۔

پرامن احتجاج اور سیاسی مطالبات پیش کرنا شہری و سیاسی عمل کا حصہ ہے، تاہم احتجاج کے دوران شہریوں کے معمولات، آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں اور دیگر افراد کے حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت سے متعلق خبریں جاری رکھنے کے لیے **HRNW** کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر حافظ نعیم الرحمن کے بیان اور دستیاب رپورٹنگ کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں شامل سیاسی مطالبات، الزامات اور پالیسی سے متعلق آرا متعلقہ سیاسی رہنما یا جماعت سے منسوب ہیں اور انہیں HRNW کا ذاتی مؤقف تصور نہ کیا جائے۔ کسی بھی دعوے یا حکومتی پالیسی کے حتمی اثرات کے لیے متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور دیگر معتبر ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔

**ماخذ:** ایکسپریس نیوز، یکم اکتوبر 2026

[اصل خبر](https://www.express.pk/story/2835792/if-pm-does-not-contact-us-we-will-launch-long-march-relief-must-be-provided-hafiz-naeem-2835792/?utm_source=chatgpt.com)

اپنا تبصرہ بھیجیں