**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو):** وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر محمد آصف زندہ ہیں تو بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں کس شخص کو ہلاک کیا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس کے حوالے سے اپنے بیان میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ محمد آصف کی میڈیا کے سامنے موجودگی نے بھارتی فوج کی جانب سے کیے گئے ایک مبینہ انکاؤنٹر سے متعلق دعوے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق اگر محمد آصف زندہ اور خیریت سے موجود ہیں تو بھارت کو وضاحت کرنا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں جس شخص کو محمد آصف قرار دے کر ہلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا، وہ کون تھا۔ انہوں نے اس معاملے کو مبینہ طور پر غلط شناخت اور فیک انکاؤنٹر سے جوڑا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارتی فوج کو اس معاملے پر عالمی سطح پر وضاحت دینی چاہیے اور بتایا جائے کہ جس شخص کی لاش کو محمد آصف سے منسوب کیا گیا، اس کی اصل شناخت کیا تھی۔ یہ مؤقف وفاقی وزیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھی بیان کیا۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ وہ سابق پاکستانی فوجی ہیں، جو 2023 میں ریٹائر ہوئے۔ پاکستانی فوجی مؤقف کے مطابق بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کی شناخت محمد آصف کے نام سے کی تھی، جسے پاکستانی جانب سے غلط شناخت قرار دیا گیا۔
### انسانی حقوق اور عوامی مفاد
کسی بھی مسلح کارروائی میں ہلاک ہونے والے افراد کی درست شناخت، شفاف تحقیقات اور حقائق کی تصدیق انسانی حقوق اور عوامی مفاد کے بنیادی تقاضے ہیں۔ ایسے معاملات میں غیر مصدقہ شناخت یا متضاد دعووں کی صورت میں آزادانہ اور قابلِ اعتماد تحقیقات ضروری ہوتی ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کے حقوق کا تحفظ اور حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
### HRNW Support Appeal
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) انسانی حقوق، عوامی مفاد اور ذمہ دار صحافت سے متعلق معلومات عوام تک پہنچانے کے لیے کام کرتا ہے۔ ادارے کی صحافتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے آپ کا تعاون اہم ہے۔
[HRNW Support Appeal — تعاون کے لیے یہاں جائیں](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر دستیاب اطلاعات اور متعلقہ فریقین کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں بیان کیے گئے سیاسی، عسکری یا دیگر دعووں کو حتمی اور غیر متنازع حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ متنازع معاملات میں تمام متعلقہ فریقین کا مؤقف اور مزید قابلِ اعتماد شواہد سامنے آنا اہم ہے۔
**ماخذ:** [ایکسپریس اردو کی اصل خبر](https://www.express.pk/story/2835969/if-muhammad-asif-is-alive-then-which-innocent-person-did-the-indian-army-kill-in-kashmir-atta-tarar-asks-2835969/?utm_source=chatgpt.com)


