**العبید، سوڈان — (ایچ آراین ڈبلیو)**سوڈان کے شہر العبید میں دو الگ الگ ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق پہلے ڈرون حملے میں کردفان یونیورسٹی کے ہاسٹل کو نشانہ بنایا گیا، جہاں طلبہ اور دیگر شہری پناہ لیے ہوئے تھے۔ حملے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ 47 زخمی ہوئے۔
دوسرے حملے میں لڑائی سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے قائم ایک پناہ گاہ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مزید 5 افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے۔ شمالی کردفان کی مقامی حکومت کے ایک عہدیدار نے اس حملے کی ذمہ داری ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) پر عائد کی ہے، تاہم RSF کی جانب سے فوری طور پر اس الزام پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یونیسیف کے مطابق العبید کی ایک الگ بے گھر افراد کی پناہ گاہ پر ڈرون حملے میں ایک لڑکا ہلاک اور 12 بچے زخمی ہوئے۔ متاثرہ بچوں میں 5 لڑکے اور 7 لڑکیاں شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق العبید اور شمالی کردفان میں حالیہ عرصے کے دوران ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ جنگ کے باعث شہری آبادی، تعلیمی اداروں، طبی مراکز اور پناہ گاہوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور یونیسیف نے تمام فریقین سے شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
جنگی حالات میں یونیورسٹی ہاسٹل، بے گھر افراد کی پناہ گاہوں اور دیگر شہری مقامات پر حملے شہریوں، خصوصاً بچوں اور پہلے ہی بے گھر خاندانوں کے لیے سنگین انسانی خطرات پیدا کرتے ہیں۔ تمام فریقین کی ذمہ داری ہے کہ شہری آبادی اور بنیادی شہری تنصیبات کو محفوظ رکھا جائے اور زخمیوں تک فوری طبی و انسانی امداد کی رسائی یقینی بنائی جائے۔
حملوں کی ذمہ داری سے متعلق الزامات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات بھی ضروری ہیں تاکہ حقائق کا تعین اور ذمہ داروں کا احتساب ممکن ہوسکے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس، طبی ذرائع، مقامی حکام اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ حملے کی ذمہ داری سے متعلق الزامات کو متعلقہ فریق کے مؤقف کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور ان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار ابتدائی رپورٹس کے باعث تبدیل ہوسکتے ہیں۔


