**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**قومی اسمبلی کے سابق سارجنٹ ایٹ آرمز اشفاق احمد کے خلاف مبینہ مالی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے الزامات پر قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے مکمل انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بلوچستان حکومت نے اشفاق احمد کی خدمات قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو واپس کردی ہیں۔ اشفاق احمد کو ڈیپوٹیشن پر بلوچستان کے محکمہ رورل ڈیویلپمنٹ میں تعینات کیا گیا تھا، جہاں ان کے خلاف مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آنے پر خدمات واپس قومی اسمبلی کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں بھی اشفاق احمد کے خلاف مالی بدعنوانی اور دیگر بے قاعدگیوں سے متعلق شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس معاملے پر قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کو مبینہ بدعنوانیوں سے متعلق ایک خط موصول ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
ذرائع کے مطابق بلوچستان حکومت کی جانب سے واپس بھیجے جانے کے باوجود اشفاق احمد نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تاحال جوائننگ نہیں دی۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے معاملے کی مکمل انکوائری کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ الزامات، مالی معاملات اور مبینہ بے ضابطگیوں کی حقیقت کا تعین کیا جاسکے۔
قومی اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق سیکریٹریٹ میں سکیورٹی برانچ اور سارجنٹ ایٹ آرمز کا انتظامی ڈھانچہ موجود ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
سرکاری اداروں میں مالی شفافیت اور احتساب عوامی اعتماد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم کسی سرکاری افسر یا ملازم کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور کسی فرد کو صرف الزام کی بنیاد پر قصوروار قرار نہ دیا جائے۔
انکوائری کے دوران متعلقہ افسر کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دینا، ریکارڈ اور مالی دستاویزات کا شفاف جائزہ لینا اور حتمی نتائج قانون و ضابطے کے مطابق جاری کرنا ضروری ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس اور ذرائع سے حاصل معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اشفاق احمد کے خلاف بیان کردہ بدعنوانی اور بے قاعدگیوں کے الزامات حتمی طور پر ثابت شدہ نہیں ہیں۔ انکوائری کا مقصد الزامات کی حقیقت کا تعین کرنا ہے، جبکہ حتمی ذمہ داری یا قانونی حیثیت متعلقہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی واضح ہوگی۔


