16

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزے پر مذاکرات جاری

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) پروگرام کے چوتھے اقتصادی جائزے پر مذاکرات جاری ہیں، جن میں ملکی معاشی کارکردگی، اصلاحات اور مختلف شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تازہ رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف کا مشن 28 ستمبر سے پاکستان میں باضابطہ مذاکرات کر رہا ہے، جو تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ کامیاب جائزے کی صورت میں پاکستان کو EFF کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے تحت تقریباً 200 ملین ڈالر ملنے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام کی جانب سے آئی ایم ایف کو ساورن ویلتھ فنڈ، گردشی قرض میں کمی کے اقدامات، کرنٹ اکاؤنٹ، پرائمری سرپلس، زرمبادلہ کے ذخائر اور شرحِ تبادلہ کی صورتحال پر بریفنگ دی جا رہی ہے۔

مذاکرات میں چینی کے شعبے کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ نہ کرنے کی وجوہات اور اس شعبے سے متعلق اصلاحات بھی زیرِ بحث آنے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف حکام کو حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات اور پروگرام کے اہداف پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، ٹیکس وصولی بہتر بنانے اور ٹیکس اصلاحات پر غور کیا جائے گا، جبکہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن بڑھانے کے اقدامات بھی زیرِ بحث ہوں گے۔

وزارتِ توانائی کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور گردشی قرض میں کمی کے اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق اقدامات سے بھی آئی ایم ایف کو آگاہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو حال ہی میں بتایا گیا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مختلف قوانین میں تقریباً 174 ترامیم پر کام کر رہی ہے، جن میں مالیاتی شعبے، سرکاری اداروں، توانائی اور دیگر اصلاحات شامل ہیں۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق معاشی اصلاحات کا براہِ راست اثر عوام، کاروباری اداروں اور سرکاری مالیات پر پڑ سکتا ہے۔ ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں تبدیلیوں اور گردشی قرض میں کمی کے اقدامات مرتب کرتے ہوئے حکومت کے لیے ضروری ہے کہ معاشی استحکام کے ساتھ کم آمدنی والے اور کمزور طبقات کے تحفظ کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

معاشی پالیسیوں میں شفافیت، پارلیمانی نگرانی اور عوام کو قابلِ فہم معلومات کی فراہمی بھی اہم ہے تاکہ اصلاحات کے ممکنہ اثرات اور فوائد کے بارے میں عوامی اعتماد برقرار رہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر 28 ستمبر 2026 تک دستیاب سرکاری اور معتبر میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف مذاکرات کے دوران زیرِ بحث معاملات اور ممکنہ مالی معاونت حتمی معاہدے یا آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوسکتی ہے۔ خبر میں مذاکرات سے متعلق ممکنہ فیصلوں کو حتمی قرار نہیں دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں