11

خیبر پختونخوا پولیس کے وسائل پر سوالات، حکومت پر استعدادِ کار متاثر ہونے کا الزام

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**خیبر پختونخوا پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو دستیاب وسائل اور استعدادِ کار کے حوالے سے صوبائی حکومت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس اور بعض دستاویزات کی بنیاد پر یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود پولیس فورس کو مطلوبہ وسائل اور افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کو وفاق اور این ایف سی کے ذریعے بڑی مالی رقوم موصول ہونے کے باوجود پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعدادِ کار میں مطلوبہ اضافہ نہیں کیا جاسکا۔ رپورٹ میں سی ٹی ڈی کے پاس بلٹ پروف گاڑیوں اور مستقل اہلکاروں کی محدود تعداد سمیت دیگر انتظامی و تکنیکی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قبائلی اضلاع میں پولیس انفرااسٹرکچر کو بھی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ صوبے میں پولیس اہلکاروں کی کمی اور بعض اہلکاروں کی دیگر ڈیوٹیوں پر تعیناتی سے متعلق اعداد و شمار بھی سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کو جدید دہشت گردی کے مقابلے کے لیے درکار فرانزک، نگرانی، حفاظتی اور دیگر تکنیکی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔

تاہم اس معاملے پر صوبائی حکومت اور پولیس حکام کی جانب سے مختلف مؤقف بھی سامنے آ چکے ہیں۔ جون 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے آئی جی ذوالفقار حمید نے بتایا تھا کہ پولیس کے لیے آئندہ مالی سال میں فنڈز میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ سی ٹی ڈی کے لیے بکتر بند گاڑیوں، ڈرونز، فضائی نگرانی کے آلات اور دیگر جدید سامان کی خریداری بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق سی ٹی ڈی کے پاس 57 آپریشنل ڈرونز اور 79 تربیت یافتہ ڈرون آپریٹرز موجود تھے۔

اسی طرح ستمبر 2026 میں وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا پولیس کے وسائل، حفاظتی آلات، بکتر بند گاڑیوں، فرانزک لیبارٹریز اور دیگر سہولیات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ انہوں نے صوبائی حکومت کے مجوزہ پولیس قانون پر بھی اعتراضات اٹھائے۔ یہ مؤقف وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کی اپیکس کمیٹی نے فروری 2026 میں دہشت گردی کے خلاف پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے اور وفاقی حکومت و سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون کو ضروری قرار دیا تھا۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

خیبر پختونخوا میں پولیس اہلکار دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں براہِ راست ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، اس لیے ان کے لیے مناسب حفاظتی سامان، جدید ٹیکنالوجی، تربیت، افرادی قوت اور طبی و رہائشی سہولیات کی فراہمی عوامی تحفظ سے براہِ راست منسلک ہے۔

پولیس اور سی ٹی ڈی کے لیے مختص وسائل کے استعمال میں شفافیت، مؤثر نگرانی اور قابلِ تصدیق اعداد و شمار عوامی اعتماد کے لیے اہم ہیں۔ اسی طرح دہشت گردی کے خلاف پالیسی اور پولیس اصلاحات پر وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے تاکہ سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں دونوں کے تحفظ کو بہتر بنایا جاسکے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

اس خبر میں خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف بیان کیے گئے الزامات اور وسائل سے متعلق اعداد و شمار کو دستیاب میڈیا رپورٹس اور متعلقہ فریقین کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان دعوؤں کی حتمی تصدیق کے لیے سرکاری بجٹ، آڈٹ ریکارڈ اور متعلقہ محکموں کے مکمل اعداد و شمار کا جائزہ ضروری ہے۔ خبر میں کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے خلاف کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں