لاہور (ایچ آراین ڈبلیو) — ملک کے مختلف شہروں میں سبزیوں، پھلوں، گوشت اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شہریوں کو مہنگائی کا سامنا ہے، جبکہ کئی مقامات پر سرکاری نرخ نامے کے باوجود اشیائے خورونوش مقررہ قیمتوں سے زائد پر فروخت کی جا رہی ہیں۔
لاہور میں شہری سرکاری نرخ نامے کے باوجود مہنگے داموں سبزیاں خریدنے پر مجبور ہیں۔ پیاز کا سرکاری ریٹ **195 روپے فی کلو** مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں یہ **200 روپے فی کلو** فروخت ہو رہا ہے۔ ٹماٹر کا سرکاری ریٹ **150 روپے فی کلو** جبکہ شملہ مرچ **280 روپے، کریلا 220 روپے اور گوبھی 180 روپے فی کلو** تک فروخت کی جا رہی ہے۔
فیصل آباد میں بھی گوشت کی قیمتوں میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ سرکاری نرخ کو نظرانداز کرتے ہوئے بیف **1,150 روپے کے بجائے 1,500 روپے فی کلو** تک فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ مٹن کی سرکاری قیمت **2,100 روپے** کے مقابلے میں **3,000 روپے فی کلو** تک پہنچ گئی ہے۔
پشاور میں آٹے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور **20 کلو کے تھیلے کی قیمت میں 100 روپے** کا اضافہ کیا گیا ہے۔ فائن آٹے کا 20 کلو تھیلا اب **3,150 روپے** میں فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب کوئٹہ میں بھی سبزیوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ٹماٹر **40 روپے، پیاز 20 روپے اور بھنڈی 30 روپے فی کلو** مہنگی ہو گئی، جبکہ مٹر کی قیمت میں بھی **50 روپے فی کلو** اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
### Human Angle
اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ براہِ راست عام شہریوں کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے، خصوصاً کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے روزمرہ خوراک کا انتظام مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ سرکاری نرخ ناموں پر عمل درآمد اور مؤثر نگرانی صارفین کو غیرضروری اضافی بوجھ سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
### HRNW Support Appeal
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ HRNW کے عوامی آگاہی اور انسانی حقوق کے مشن کو جاری رکھنے کے لیے آپ کا تعاون اہم ہے۔
**Support HRNW — HRNW کے نیک مشن میں اپنا حصہ ڈالیں:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**اہم نوٹ / Disclaimer:** یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور مختلف شہروں میں رپورٹ ہونے والی قیمتوں کی بنیاد پر عوامی آگاہی کے لیے شائع کی گئی ہے۔ قیمتیں مارکیٹ اور وقت کے لحاظ سے تبدیل ہو سکتی ہیں۔ HRNW بیرونی ذرائع سے فراہم کردہ معلومات کی مکمل درستگی کا ذمہ دار نہیں۔


