**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)**اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو ایک ہی واقعے اور انہی الزامات کی بنیاد پر دوبارہ انکوائری آگے بڑھانے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایک ہی حقائق اور ایک ہی الزام پر دوبارہ کارروائی آئینی تحفظ کے منافی ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے میر اویس کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے الزامات جن پر پہلے ہی انکوائری مکمل کرکے معاملہ بند کیا جاچکا ہو، انہی بنیادوں پر نئی انکوائری شروع نہیں کی جاسکتی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ایف آئی اے ایبٹ آباد پہلے ہی اسی واقعے اور الزامات کی انکوائری مکمل کرکے معاملہ باقاعدہ طور پر بند کرچکی تھی۔ پہلی انکوائری دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر مکمل کی گئی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل کے مطابق پہلی انکوائری بند ہونے کے کافی عرصے بعد ایف آئی اے اسلام آباد نے انہی الزامات پر دوبارہ کارروائی شروع کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ بعد میں شروع کی گئی انکوائری کسی نئے یا مختلف واقعے سے متعلق نہیں بلکہ اسی واقعے اور انہی الزامات کی بنیاد پر ہے جن کا پہلے جائزہ لیا جاچکا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ محض دفتر یا تفتیشی افسر کی تبدیلی کی بنیاد پر انہی الزامات پر دوبارہ انکوائری شروع نہیں کی جاسکتی۔ عدالت کے مطابق ایک ہی حقائق اور ایک ہی الزام کی بنیاد پر دوبارہ انکوائری کا عمل آئینی تحفظ کے منافی ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ ایف آئی اے ایبٹ آباد کی جانب سے پہلے مکمل اور بند کی گئی انکوائری کو دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا۔ فیصلے میں اس نوعیت کی دوبارہ کارروائی کو **ڈبل جیپرڈی (Double Jeopardy)** کے اصول سے جوڑا گیا، جس کے تحت ایک ہی معاملے میں کسی شخص کو دوبارہ کارروائی کا سامنا کرانے سے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
عدالت نے ایف آئی اے اسلام آباد کی جانب سے شروع کی گئی بعد کی انکوائری اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت جاری کیے گئے نوٹس کو قانونی اختیار سے عاری قرار دے دیا اور ایف آئی اے کو انہی حقائق کی بنیاد پر مزید انکوائری آگے بڑھانے سے روک دیا۔
فیصلے کے مطابق میر اویس کے خلاف اسی واقعے اور الزامات کی بنیاد پر شروع کی گئی بعد کی انکوائری کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے۔
واضح رہے کہ میر اویس نے ایف آئی اے کی دوبارہ انکوائری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایف آئی اے ایبٹ آباد پہلے ہی معاملے کی مکمل انکوائری کرکے اسے بند کرچکی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے دوبارہ انکوائری کے خلاف دائر درخواست نمٹا دی۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
عدالت کا فیصلہ کسی بھی شہری کے لیے منصفانہ قانونی عمل، آئینی تحفظ اور ریاستی اداروں کی جانب سے قانونی اختیار کے مطابق کارروائی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک ہی معاملے میں بار بار کارروائی سے متعلق اصول شہریوں کو غیر ضروری قانونی دباؤ سے تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ تفتیشی عمل میں شفافیت اور قانونی حدود کی پابندی سے بھی جڑے ہیں۔
## HRNW Support Appeal
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری صحافتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے آپ کی معاونت اہم ہے۔
**HRNW کی معاونت کے لیے:**
## Disclaimer
یہ خبر اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری فیصلے اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عدالتی فیصلے میں بیان کردہ قانونی نکات کو اسی تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ خبر کسی فریق کے حق یا مخالفت میں HRNW کی قانونی رائے تصور نہ کی جائے۔


