**کوئٹہ — (ایچ آراین ڈبلیو)**کسان اتحاد نے کسانوں اور زمینداروں کے مطالبات کی منظوری کے لیے کوئٹہ سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر سے کسانوں کے قافلے احتجاج میں شریک ہوں گے۔
کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں اور زمینداروں کے مسائل اجاگر کرنے اور ان کے مطالبات کی منظوری کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے کسانوں کے قافلے اس احتجاج میں شامل ہوں گے۔
خالد حسین باٹھ نے کہا کہ کسان اتحاد کسانوں کے حقوق کے تحفظ اور مطالبات کی منظوری تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برس کے دوران زرعی شعبے سے متعلق حکومتی پالیسیوں کے باعث کسانوں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ مہنگائی نے عام شہریوں کی قوتِ خرید بھی متاثر کی ہے۔
کسان رہنما نے بلوچستان میں زرعی شعبے کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنے اور کسانوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی معیشت میں زراعت کا اہم کردار ہے، اس لیے زرعی شعبے کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کھاد، یوریا، ڈیزل اور دیگر زرعی مداخل پر ریلیف دینے، کسانوں کے واجبات کی ادائیگی اور فصلوں کے لیے مناسب قیمتوں کے تعین کا مطالبہ کیا۔ کسان اتحاد کی جانب سے گندم، گنے، پیاز، ٹماٹر اور دیگر زرعی اجناس سے متعلق بھی مختلف مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔
خالد حسین باٹھ نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ صوبے میں زرعی شعبے کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کسانوں کی مشکلات کے حل کو ملکی غذائی ضروریات اور معیشت سے بھی جوڑا۔
کسان اتحاد کے مطابق قافلے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوچکے ہیں جبکہ ملک کے مختلف شہروں سے مزید کسانوں کے قافلے مارچ میں شامل ہوں گے۔ اتحاد نے مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد میں احتجاج جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
کسان ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے زرعی شعبے سے متعلق پالیسیوں کے اثرات صرف کاشت کاروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ خوراک کی قیمتوں، دستیابی اور عوامی مہنگائی پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
کسانوں کو پرامن احتجاج اور اپنے مطالبات پیش کرنے کا آئینی حق حاصل ہے، تاہم احتجاج کے دوران عام شہریوں کی آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں اور دیگر بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ حکومت اور کسان نمائندوں کے درمیان مذاکرات اور شفاف پالیسی سازی کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش عوامی مفاد میں اہم ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
اس خبر میں کسان اتحاد کے رہنماؤں کی جانب سے بیان کیے گئے مطالبات، الزامات اور زرعی شعبے سے متعلق اعداد و شمار کو ان کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ احتجاج اور لانگ مارچ سے متعلق انتظامی صورت حال میں تبدیلی ممکن ہے، اس لیے تازہ معلومات کے لیے متعلقہ حکام اور منتظمین کے بیانات سے رجوع کیا جائے۔


