8

پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کی کال، لاہور میں 37 کارکن اور مقامی رہنما گرفتار

**لاہور — (ایچ آراین ڈبلیو)**پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج اور مارچ کی کال کے بعد لاہور میں پارٹی کے کارکنوں اور مقامی رہنماؤں کے خلاف پولیس کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق لاہور میں 37 کارکنوں اور مقامی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ 29 افراد کو 30 روز کے لیے نظر بند کردیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض افراد کے خلاف پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (3 ایم پی او) کے تحت کارروائی کی گئی۔

پولیس کے مطابق چار مقامی رہنماؤں کو 9 مئی سے متعلق مقدمات میں بھی گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ مزید متحرک کارکنوں کی فہرستیں مرتب کرکے کارروائی کی جارہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کی 27 ستمبر کی احتجاجی کال کے تناظر میں پنجاب کے مختلف علاقوں میں انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ لاہور میں بعض نظربندیوں کو عدالت میں بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی نظربندی سے متعلق درخواستوں پر متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا ہے۔

پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائی کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور نظربندیوں پر اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

پرامن سیاسی اجتماع اور اظہارِ رائے شہریوں کے آئینی حقوق میں شامل ہیں، تاہم احتجاج کے دوران امن و امان اور دیگر شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ اسی طرح کسی بھی شخص کی گرفتاری یا نظربندی قانون میں مقررہ طریقہ کار، شفافیت اور عدالتی نگرانی کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔

سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں میں الزامات، قانونی بنیاد اور نظربندی کی وجوہات واضح کرنا، جبکہ متعلقہ افراد کو قانونی چارہ جوئی کا مؤثر حق فراہم کرنا عوامی اعتماد اور قانون کی بالادستی کے لیے اہم ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر پولیس، عدالتی ریکارڈ اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ گرفتاری، نظربندی اور 9 مئی سے متعلق مقدمات کے حوالے سے پولیس کا مؤقف منسوب کرکے بیان کیا گیا ہے۔ کسی بھی زیرِ سماعت مقدمے یا الزام کو حتمی عدالتی فیصلہ تصور نہ کیا جائے۔ متعلقہ افراد کو قانون کے مطابق اپنا دفاع اور عدالتی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں