18

سی ڈی اے کا اسلام آباد میں الیکٹرک ڈبل ڈیکر بسیں متعارف کرانے کا فیصلہ

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں شہریوں اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے الیکٹرک ڈبل ڈیکر بس سروس متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد دارالحکومت کے اہم تفریحی، تاریخی اور سیاحتی مقامات تک سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔

سی ڈی اے کے مطابق مجوزہ سروس کے ذریعے 15 سے زائد اہم مقامات کو آپس میں منسلک کیا جائے گا، جن میں لیک ویو پارک، شکرپڑیاں، پاکستان مونومنٹ، فیصل مسجد، دامنِ کوہ اور ڈی چوک سمیت دیگر مقامات شامل ہیں۔

مجوزہ الیکٹرک ڈبل ڈیکر بسوں میں ایک وقت میں 90 مسافروں کے سفر کی گنجائش ہوگی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق بسوں میں 67 نشستیں، لو فلور بورڈنگ اور خصوصی طور پر وہیل چیئر استعمال کرنے والے افراد کے لیے جگہ بھی فراہم کی جائے گی۔ بسوں میں ایئر کنڈیشننگ اور جدید بریکنگ، اسٹیبلٹی اور سسپنشن سسٹم بھی شامل ہوں گے۔

سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ الیکٹرک بسیں زیرو ٹیل پائپ اخراج کے باعث ماحول دوست سفری سہولت فراہم کریں گی اور شہریوں کو اپنی گاڑی کے بغیر مختلف تفریحی و تاریخی مقامات دیکھنے کا موقع ملے گا۔

رپورٹس کے مطابق سی ڈی اے بورڈ نے سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے چار ڈبل ڈیکر بسوں کی خریداری کی تجویز بھی منظور کی ہے۔ اس سے قبل سی ڈی اے نے بسوں کی خریداری اور فزیبلٹی کے لیے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا سے رابطہ کیا تھا۔

تاہم بس سروس کے کرایوں، مخصوص اسٹاپس، آپریشنل اوقات اور حتمی آغاز کی تاریخ سے متعلق تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

عوامی اور سیاحتی مقامات تک محفوظ، قابلِ رسائی اور ماحول دوست سفری سہولت شہریوں اور سیاحوں کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر بزرگ شہریوں، طلبہ، خاندانوں، معذور افراد اور ذاتی گاڑی نہ رکھنے والے افراد کے لیے بس سروس کی رسائی اہم ہوگی۔

منصوبے کے عملی آغاز کے بعد کرایوں، روٹ، اسٹاپس اور اوقات کار کا ایسا نظام ضروری ہے جو عام شہریوں کے لیے قابلِ رسائی ہو اور مختلف طبقات، خصوصاً خصوصی افراد، کے لیے مناسب سہولیات یقینی بنائے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر سی ڈی اے، اے پی پی اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ بس سروس کے روٹ، تعداد، کرایوں، سہولیات اور آغاز کی تاریخ میں حتمی سرکاری فیصلے کے بعد تبدیلی ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں