**پشاور — (ایچ آراین ڈبلیو)**خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پولیس ایکٹ 2017 میں ترامیم کے لیے تیار کیے گئے مجوزہ مسودے کے اہم نکات سامنے آگئے ہیں، جن میں آئی جی پولیس کی تعیناتی، افسران کے تبادلوں اور پولیس کی انتظامی، مالی و آپریشنل پالیسیوں سے متعلق اختیارات میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔
مجوزہ ایکٹ کے مطابق آئی جی خیبرپختونخوا کی تعیناتی کا اعلامیہ صوبائی حکومت جاری کرے گی۔ ذرائع کے مطابق اگر صوبائی حکومت آئی جی کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہو تو وفاقی حکومت سے مزید نام طلب کیے جاسکیں گے۔
مسودے میں آئی جی کی غیر موجودگی میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈکوارٹرز کو قائم مقام آئی جی کی ذمہ داریاں سونپنے کی تجویز بھی شامل ہے، جبکہ ڈی ایس پیز اور اے ایس پیز کے تبادلوں سے متعلق اختیارات محکمہ داخلہ کو دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت ایس پی، ایس ایس پی اور ایڈیشنل آئی جی کی تعیناتی اور تبادلوں کے اختیارات میں بھی تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق پولیس افسران کی پوسٹنگز اور تبادلوں کے اختیارات صوبائی حکومت کے پاس منتقل کیے جانے کی تجویز ہے۔
مسودے میں پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی آئی جی کے بجائے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کی آپریشنل، انتظامی اور مالی پالیسیوں سے متعلق اختیارات میں بھی صوبائی حکومت کے کردار کو بڑھانے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔
مجوزہ ایکٹ کے تحت کسی قانونی معاملے میں پولیس کی جانب سے براہِ راست جواب جمع کرانے کے بجائے محکمہ قانون اور ایڈووکیٹ جنرل آفس سے منظور شدہ جواب جمع کرانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
### پولیس افسران کے تحفظات
ذرائع کے مطابق مجوزہ ترامیم پر بعض سینئر پولیس افسران نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ افسران نے پولیس کے انتظامی، مالی اور آپریشنل اختیارات میں مجوزہ تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات سے متعلق اپنے خدشات متعلقہ حکام تک پہنچائے ہیں۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کی جانب سے مؤقف سامنے آیا ہے کہ پولیس ایک صوبائی معاملہ ہے اور مجوزہ ترامیم کا مقصد پولیسنگ میں چیک اینڈ بیلنس بہتر بنانا اور اختیارات کے غلط استعمال کی روک تھام ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
پولیس کے انتظامی اور آپریشنل اختیارات سے متعلق قانونی تبدیلیاں شہریوں کے تحفظ، قانون کی حکمرانی، پولیس کی جواب دہی اور ادارہ جاتی خودمختاری پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ ایسے قانون کی تیاری میں شفاف قانون سازی، متعلقہ اداروں سے مشاورت اور واضح اختیارات و ذمہ داریوں کا تعین عوامی مفاد کے لیے اہم ہے۔
پولیسنگ کے نظام میں سیاسی و انتظامی نگرانی اور پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری کے درمیان قانونی توازن بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے تاکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، منصفانہ تفتیش اور قانون کے یکساں نفاذ کو یقینی بنایا جاسکے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ میں مجوزہ ترامیم سے متعلق دستیاب رپورٹس اور ذرائع کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ یہ تبدیلیاں مسودے کی صورت میں بیان کی گئی ہیں اور قانون کی حتمی منظوری اور نافذ ہونے تک ان میں ردوبدل ممکن ہے۔ مختلف رپورٹس میں بعض اختیارات اور عہدوں سے متعلق تفصیلات میں فرق بھی موجود ہے، اس لیے حتمی قانونی متن کو ہی فیصلہ کن سمجھا جائے گا۔


