**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے 96ویں قومی دن کے موقع پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی عوام کو مبارکباد پیش کی ہے۔
اپنے پیغام میں وزیراعظم نے سعودی عرب کے ترقی اور تبدیلی کے سفر کو پاکستان کے لیے بھی باعثِ فخر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب خوشحالی، جدید کاری اور جدت کی جانب پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات مشترکہ عقیدے، باہمی اعتماد اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مضبوط وابستگی پر قائم ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ دونوں ممالک امن، سلامتی اور خطے میں استحکام کے لیے تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حوثی حملوں کی بھی سخت مذمت کی، خصوصاً مکہ مکرمہ کی جانب مبینہ ڈرون حملے کی کوشش پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کی سلامتی کو لاحق کوئی بھی خطرہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو متاثر کرتا ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے مکہ کے قریب ایک حوثی ڈرون کو مار گرائے جانے کی اطلاع دی ہے، جبکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ اس لیے حملے کے محرکات اور ہدف سے متعلق فریقین کے مؤقف کو الگ الگ دیکھا جانا ضروری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کی خواہش رکھتا ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری کشیدگی میں شہریوں، تجارتی جہاز رانی اور اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ کسی بھی مسلح کارروائی میں شہری آبادی کو نقصان سے بچانا اور بین الاقوامی قانون کے تقاضوں کی پاسداری ضروری ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی و اسٹریٹجک تعاون کے حوالے سے بھی عوامی مفاد میں شفاف معلومات، واضح پالیسی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ علاقائی اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر نے بھی سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق اور خطے میں محفوظ جہاز رانی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر وزیراعظم پاکستان کے بیان اور دستیاب سرکاری و میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ حوثی حملوں، ان کے اہداف اور ذمہ داری سے متعلق جہاں مختلف فریقین کے مؤقف موجود ہیں، انہیں اسی نسبت سے بیان کیا گیا ہے۔ کسی بھی غیر مصدقہ دعوے کو حتمی حقیقت تصور نہ کیا جائے۔


