8

پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات شروع، تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی ممکنہ منظوری متوقع

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزے کے لیے مذاکرات آج سے شروع ہوگئے ہیں، جن کے کامیاب اختتام کی صورت میں پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی رقم دستیاب ہونے کی توقع ہے۔

آئی ایم ایف مشن پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) پروگرام کے جائزے کے ساتھ ساتھ 1.1 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) سے متعلق جائزہ بھی لے رہا ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق مذاکرات تقریباً دو ہفتے جاری رہنے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام سے تکنیکی امور پر بات چیت کی جائے گی۔ مذاکرات میں کرنٹ اکاؤنٹ، شرح سود، زرمبادلہ کی صورتحال اور ایکسچینج ریٹ سمیت مختلف معاشی معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔

مذاکرات کے دوران پاکستان کی معاشی کارکردگی، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، یورو بانڈ کے اجرا اور بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم سے متعلق بھی آئی ایم ایف مشن کو بریفنگ دی جائے گی۔

دستیاب IMF جائزے کے مطابق کامیاب پیش رفت کی صورت میں پاکستان کو EFF کے تحت تقریباً **1 ارب ڈالر** جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی لچک سے متعلق RSF کے تحت تقریباً **20 کروڑ ڈالر** کی رقم مل سکتی ہے۔

مذاکرات میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بجلی اور گیس کے سرکلر ڈیٹ، ٹیکس وصولیوں، ساختی اصلاحات اور دیگر مقررہ اہداف پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے موجودہ پروگرام میں معاشی استحکام کے ساتھ ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی کارکردگی، سماجی تحفظ، حکومتی اداروں میں اصلاحات اور موسمیاتی لچک جیسے شعبے بھی شامل ہیں۔

پاکستان کی جانب سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور معاشی استحکام سے متعلق پیش رفت بھی مذاکرات کا حصہ ہوگی۔ تاہم حتمی مالی معاونت کا فیصلہ مذاکرات، اہداف کی تکمیل اور آئی ایم ایف کے متعلقہ جائزے کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات کا براہِ راست اثر عوام کی روزمرہ زندگی، روزگار، توانائی کی قیمتوں، ٹیکسوں اور سماجی تحفظ پر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے معاشی استحکام کے ساتھ کم آمدنی والے اور کمزور طبقات کے تحفظ، بنیادی سہولیات تک رسائی اور شفاف پالیسی سازی کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔

قرض پروگرام سے متعلق مذاکرات میں حکومتی مالی اہداف کے ساتھ عوامی مفاد، سماجی تحفظ اور معاشی مواقع میں بہتری کے پہلوؤں کو بھی واضح طور پر مدنظر رکھنا اہم ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر دستیاب سرکاری و بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی معلومات اور معتبر میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی ممکنہ رقم حتمی منظوری نہیں بلکہ مذاکرات اور جائزے کی کامیابی سے مشروط متوقع مالی معاونت ہے۔ مالیاتی اعداد و شمار اور پروگرام کی شرائط میں مذاکرات کے دوران تبدیلی ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں