**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزے سے متعلق مذاکرات رواں ہفتے شروع ہونے کا امکان ہے، جن میں آئی ایم ایف کے موجودہ قرض پروگرام کے تحت پاکستان کی معاشی کارکردگی اور اصلاحات کا جائزہ لیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے **7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF)** پروگرام کے تحت پانچویں قسط کے حصول پر بات چیت ہوگی۔ مذاکرات تقریباً دو ہفتے جاری رہنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام آئی ایم ایف مشن کو جون 2026ء تک کی معاشی سرگرمیوں اور کارکردگی سے آگاہ کریں گے، جبکہ پروگرام کے تحت مقرر کیے گئے اسٹرکچرل بینچ مارکس اور معاشی اصلاحات کے اہداف پر بھی بات ہوگی۔
مذاکرات میں حکومتی مالیاتی پالیسی، توانائی کے شعبے، درآمدی اعداد و شمار اور دیگر معاشی اصلاحات سے متعلق پیش رفت کا جائزہ بھی متوقع ہے۔ آئی ایم ایف مشن گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ پر عملدرآمد کے منصوبے کا بھی جائزہ لے گا۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موجودہ پروگرام کے تحت مئی 2026ء میں تیسرا جائزہ مکمل ہونے کے بعد تقریباً **1.1 ارب ڈالر** کی EFF رقم اور تقریباً **220 ملین ڈالر** کی RSF رقم جاری کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔
حالیہ رپورٹس میں آئندہ جائزے کی کامیاب تکمیل کی صورت میں تقریباً **1.2 ارب ڈالر تک** کی رقم ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم اس کی حتمی رقم اور اجرا آئی ایم ایف کے جائزے اور متعلقہ منظوریوں سے مشروط ہوگا۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات کا براہِ راست اثر عوامی زندگی، مہنگائی، توانائی کی قیمتوں، روزگار اور سماجی تحفظ پر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے معاشی استحکام کے اقدامات کے ساتھ کم آمدنی والے اور کمزور طبقات کے لیے مؤثر سماجی تحفظ اور بنیادی سہولیات تک رسائی کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر دستیاب سرکاری، آئی ایم ایف اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ آئندہ قسط کی حتمی رقم، اجرا اور شرائط آئی ایم ایف کے جائزے، مذاکرات اور متعلقہ منظوریوں کے بعد ہی حتمی ہوں گی۔


