7

موسمیاتی تبدیلی کے شدید خطرات، پاکستان کا عالمی مالی معاونت تیز کرنے کا مطالبہ

**نیویارک — (ایچ آراین ڈبلیو)**موسمیاتی تبدیلی سے بڑھتے خطرات کے پیش نظر پاکستان نے عالمی مالی معاونت تیز کرنے اور موسمیاتی فنڈز تک رسائی کا طریقہ کار آسان بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے نیویارک میں عالمی سطح کے اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے درپیش خطرات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے بنیادی ڈھانچے اور عوامی زندگی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس کے باعث قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کے **”Financing Planet and Prosperity”** اجلاس میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ڈیزاسٹر رسپانس فریم ورک، ابتدائی انتباہی نظام اور لاگت پر مبنی موسمیاتی سرمایہ کاری کے منصوبوں کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔

محمد اورنگزیب نے گرین کلائمیٹ فنڈ اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ سمیت عالمی موسمیاتی فنڈز سے مالی معاونت تیز کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی فنڈز تک رسائی کے طریقہ کار کو آسان اور تیز بنایا جائے تاکہ موسمیاتی خطرات سے متاثرہ ممالک بروقت وسائل حاصل کرسکیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان نے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی کیپٹل مارکیٹس کے ذریعے ریلیف، موسمیاتی موافقت اور تعمیرِ نو کے لیے مالی وسائل متحرک کیے ہیں، تاہم بیرونی معاونت کے ساتھ ملکی وسائل اور مناسب مالی گنجائش کو بھی بروئے کار لانا ضروری ہے۔

محمد اورنگزیب نے نیویارک میں **COP31 ایکشن ایجنڈا** کے اجرا کے موقع پر پاکستان کی جانب سے اس کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے موسمیاتی ترجیحات میں صاف توانائی، قابلِ تجدید توانائی، توانائی مؤثر عمارتوں، موسمیاتی مزاحمت رکھنے والے شہروں، موسمیاتی تعلیم، غذائی تحفظ اور موسمیاتی اثرات سے محفوظ زراعت کو اہم قرار دیا۔

انہوں نے مجوزہ **Climate Implementation Bridge** کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے موسمیاتی وعدوں کو قابلِ سرمایہ کاری اور قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کا اثر انسانی جانوں، رہائش، خوراک، پانی، صحت اور بنیادی ڈھانچے پر براہِ راست پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے سیلاب اور دیگر موسمیاتی خطرات سے متاثرہ ملک کے لیے بروقت آفات سے نمٹنے کے نظام، ابتدائی انتباہی نظام اور موسمیاتی موافقت میں سرمایہ کاری عوامی تحفظ کے لیے اہم ہے۔

عالمی موسمیاتی مالی معاونت میں شفافیت، بروقت رسائی اور متاثرہ آبادیوں کی حقیقی ضروریات کو ترجیح دینا بھی ضروری ہے تاکہ دستیاب وسائل سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں تک مؤثر انداز میں پہنچ سکیں۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر وزیر خزانہ کے بیانات اور دستیاب سرکاری و میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ موسمیاتی مالی معاونت سے متعلق اعلانات اور وعدوں کی عملی پیش رفت، فنڈز کی منظوری اور رقوم کے اجرا کا عمل متعلقہ عالمی اداروں اور حکومتوں کے فیصلوں سے مشروط ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں