**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مقامی طور پر تیار ہونے والے گھی اور کوکنگ آئل کی **سیلز ٹیکس کے لیے کم از کم قابلِ ٹیکس قیمتیں** مقرر کردی ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق اس اقدام کا مقصد گھی اور کوکنگ آئل کے شعبے میں کم قیمت ظاہر کرنے، انڈر انوائسنگ اور ٹیکس کی درست وصولی کو یقینی بنانا ہے۔
ایف بی آر نے **ایس آر او 1632(1)/2026** کے تحت سبزیوں اور حیوانی چکنائی و تیل، گھی اور کوکنگ آئل کے لیے کم از کم قیمت مقرر کرنے کا طریقہ کار جاری کیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق بنیادی قیمت پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے ہفتہ وار حساس قیمت اشاریے (SPI) کے تحت گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں شائع ہونے والی اوسط قومی ریٹیل قیمت کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔ رجسٹرڈ ایسے کاروباری ادارے جو ایف بی آر کے ڈیجیٹل انوائسنگ اور پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوں، انہیں اس قیمت میں **25 روپے فی کلو** کی کمی کی اجازت ہوگی۔
### ستمبر 2026 کے لیے کم از کم قیمتیں
ایف بی آر نے گھی اور کوکنگ آئل کے برانڈز کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے:
* **کیٹیگری اے:** 588 روپے فی کلو/لیٹر
اس میں ڈالڈا، حبیب، صوفی، میزان، سویا سپریم اور ایوا شامل ہیں۔
* **کیٹیگری بی:** 547 روپے فی کلو/لیٹر
اس میں من پسند، حبیب ہانڈی، سیزنز، کشمیر، کوثر، شاہ تاج، کسان، شفق اور سلطان شامل ہیں۔
* **کیٹیگری سی:** 500 روپے فی کلو/لیٹر
اس میں دیگر تمام برانڈز شامل ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق یہ قیمتیں ستمبر 2026 کے لیے مقرر کی گئی ہیں اور آئندہ مہینوں میں بھی اسی طریقہ کار کے تحت نئی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں دی گئی مثال کے مطابق پی بی ایس کے 26 جولائی 2026 کو شائع کردہ اعداد کی بنیاد پر اوسط قیمت **613 روپے فی کلو/لیٹر** بنتی تھی۔ رجسٹرڈ اور مقررہ ڈیجیٹل نظام سے مطابقت رکھنے والے کاروباری اداروں کے لیے 25 روپے کی کمی کے بعد بنیادی قیمت 588 روپے مقرر ہوئی۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی مصنوعات کی اصل سپلائی قیمت مقررہ کم از کم قیمت سے زیادہ ہو تو سیلز ٹیکس زیادہ اصل قیمت پر وصول کیا جائے گا۔ یہ طریقہ کار نومبر 2026 کے ٹیکس پیریڈ تک نافذ العمل رہے گا۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
گھی اور کوکنگ آئل عام گھریلو استعمال کی بنیادی اشیاء میں شامل ہیں، اس لیے ان کی قیمتوں اور ٹیکس پالیسی کا براہ راست اثر صارفین کے گھریلو بجٹ پر پڑ سکتا ہے۔ ٹیکس وصولی میں شفافیت اور انڈر انوائسنگ کی روک تھام کے ساتھ ساتھ صارفین کے لیے قیمتوں کی واضح معلومات اور مارکیٹ میں مؤثر نگرانی بھی ضروری ہے۔
حکام کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ ٹیکس کے لیے مقرر کردہ کم از کم قیمت اور حقیقی ریٹیل قیمت کے درمیان فرق کو عوام کے سامنے واضح رکھا جائے تاکہ صارفین میں غیر ضروری ابہام پیدا نہ ہو۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر ایف بی آر کے نوٹیفکیشن اور دستیاب معتبر رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مقرر کردہ اعداد **سیلز ٹیکس کے لیے کم از کم قابلِ ٹیکس قیمتیں** ہیں؛ انہیں ہر برانڈ کی لازمی حتمی مارکیٹ ریٹیل قیمت تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ اصل مارکیٹ قیمتیں برانڈ، پیکنگ، دکاندار اور دیگر عوامل کے باعث مختلف ہوسکتی ہیں۔


