31

آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن پر کارٹل کا الزام ثابت، 6 کروڑ روپے جرمانہ

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے آل پاکستان ایڈیبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن پر خوردنی تیل اور گھی کی ترسیل کے کرایوں کے اجتماعی تعین اور ٹینکرز میں کاروبار کی تقسیم کے ذریعے مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کا فیصلہ سناتے ہوئے مجموعی طور پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا۔

سی سی پی کے مطابق ایسوسی ایشن پر کرایوں کے اجتماعی تعین کے معاملے میں 3 کروڑ روپے جبکہ ’پرچی اور باری‘ کے ذریعے کاروبار تقسیم کرنے پر مزید 3 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ کمیشن نے دونوں طریقہ کار فوری طور پر ختم کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

سی سی پی کے مطابق ایسوسی ایشن کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے اضافے پر ٹرانسپورٹ کرایہ 0.75 فیصد بڑھانے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے کمی پر کرایہ صرف 0.5 فیصد کم کرنے کا فارمولا استعمال کیا جاتا تھا۔ کمیشن کے مطابق اس فارمولے کے تحت یکساں تبدیلی کی صورت میں کرایہ بڑھانے کی شرح کمی کی شرح سے 50 فیصد زیادہ تھی۔

کمیشن کے مطابق گزشتہ 6 سال کے دوران ٹرانسپورٹ کرایوں میں 89 مرتبہ اجتماعی ردوبدل کیا گیا، جن میں 52 مرتبہ اضافہ اور 37 مرتبہ کمی شامل تھی۔

سی سی پی کا کہنا ہے کہ رعایتی کرایہ دینے والے ٹینکر مالکان کو بلیک لسٹ کرنے کی دھمکیاں دی گئیں، جبکہ رعایتی کرایہ طلب کرنے والی ملوں کو خوردنی تیل کی سپلائی روکنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ کمیشن کے مطابق ٹینکرز کو آزادانہ مسابقت کے بجائے ’پرچی اور باری‘ کے نظام کے تحت کاروبار فراہم کیا جاتا تھا اور مخصوص شرائط کی خلاف ورزی پر ٹینکر اور مالک دونوں کے لیے الگ الگ 5 لاکھ روپے جرمانہ مقرر تھا۔

سی سی پی کے مطابق شوکاز نوٹس جاری ہونے کے باوجود اگست 2026 میں 81 مقامات کے لیے نیا کرایہ سرکلر جاری کیا گیا۔ ایک سرکلر میں کراچی سے باہر 81 مقامات تک گھی کی ترسیل کے کرایے مقرر کیے گئے، جبکہ چربی کی کراچی سے باہر 53 اور کراچی کے اندر گھی و چربی کے لیے 18 مقامات کے کرایے بھی طے کیے گئے۔

کمیشن کے مطابق ایسوسی ایشن کے تقریباً 2,362 ٹینکرز اور 1,700 مالکان رجسٹرڈ تھے۔ روزانہ 250 سے 300 ایسوسی ایشن ٹینکرز بندرگاہوں پر آتے تھے، جبکہ این ایل سی کے 50 سے 60 ٹینکرز موجود تھے۔ سی سی پی کے مطابق دو بڑے کھلاڑیوں کے تقابل میں ایسوسی ایشن کا حصہ تقریباً 83 فیصد بنتا تھا۔

سی سی پی کے مطابق آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن اور پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے درمیان ٹرانسپورٹ کرایوں کے تعین کا معاہدہ موجود تھا، جبکہ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی کرایوں کے باہمی معاہدے کے تحت طے ہونے کا اعتراف کیا۔

کمیشن کے مطابق ٹرانسپورٹ کرایوں کا معاہدہ 2011 میں ہوا اور 2022 میں اسے اپ ڈیٹ کیا گیا۔ تلاشی کے دوران گزشتہ 6 سال کے ریٹ سرکلرز، معاہدے اور کمپیوٹر میں محفوظ ریکارڈ بھی قبضے میں لیے گئے۔

سی سی پی کے مطابق کمیشن کے ایک سابقہ فیصلے میں بھی پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشنز کے درمیان ٹرانسپورٹ کرایوں کے تعین کے معاہدے سامنے آئے تھے۔ اسی فیصلے میں پی وی ایم اے پر کمپٹیشن ایکٹ کی دفعہ 4 کی خلاف ورزی پر 5 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

سی سی پی کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ لاگت میں اضافے کے نتیجے میں گھی اور خوردنی تیل جیسی ضروری اشیا کی قیمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔ کمیشن نے کرایوں کے اجتماعی تعین اور ’پرچی و باری‘ کے نظام کو فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

گھی اور خوردنی تیل روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا میں شامل ہیں، اس لیے ان کی ترسیل کے اخراجات اور مارکیٹ میں مسابقت کا براہِ راست اثر صارفین پر پڑ سکتا ہے۔ مسابقتی قوانین کا مقصد کاروباری اداروں کے درمیان منصفانہ مسابقت برقرار رکھنا اور ایسے طریقہ کار کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو مارکیٹ میں قیمتوں یا کاروباری مواقع کو اجتماعی طور پر محدود کرے۔

اس معاملے میں سی سی پی کے فیصلے، شواہد اور قانونی کارروائی کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھنا اہم ہے، جبکہ متعلقہ فریقین کو قانون کے تحت دستیاب اپیل اور قانونی چارہ جوئی کے حقوق بھی حاصل رہتے ہیں۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ معلومات اور فیصلے میں بیان کردہ مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ جرمانے اور مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق تفصیلات کو سی سی پی کے فیصلے کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ متعلقہ فریقین کو قانون کے تحت دستیاب اپیل یا دیگر قانونی حقوق حاصل ہوسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں