30

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر اسلام آباد لانگ مارچ کا پلان سامنے آگیا

**پشاور — (ایچ آراین ڈبلیو)**پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں مجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی کا منصوبہ سامنے آگیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب مرحلہ وار پیش قدمی کے لیے مختلف مقامات پر دھرنوں اور کیمپوں کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے 12 مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں موٹروے اور جی ٹی روڈ پر کیمپ قائم کیے جائیں گے۔ پشاور، خیبر، نوشہرہ اور اکوڑہ خٹک کی جانب سے اٹک پل کے قریب دھرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جبکہ ملاکنڈ، صوابی، مردان اور چارسدہ میں بھی موٹروے کے مختلف مقامات پر احتجاجی کیمپ قائم کرنے کی تجویز ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق ہری پور میں حطار، خانپور، جھاری کس اور مکھنیال جبکہ ہزارہ موٹروے پر بھی کیمپ لگائے جائیں گے۔ ایبٹ آباد میں باریان اور کوہالہ، جبکہ صوابی میں ٹوپی اور ایم این موٹروے کے مقامات بھی منصوبے میں شامل ہیں۔

نوشہرہ میں خیرآباد کنڈ اور اٹک پل، لکی مروت میں کنڈل جبکہ کوہاٹ میں خوشحال گڑھ کے مقامات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو متعلقہ کیمپوں میں شرکت اور انتظامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ ہر ضلع کی جانب سے کیمپوں میں شریک کارکنوں کے لیے خوراک، پینے کے پانی اور دیگر ضروری اشیا کا انتظام کیا جائے گا۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاں مارچ کا راستہ روکا گیا، وہاں دھرنا دینے کی حکمت عملی اختیار کی جائے گی، جبکہ کیمپوں کا مقصد مارچ میں شریک کارکنوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ کی قیادت کریں گے۔ حتمی حکمت عملی پر غور کے لیے وزیراعلیٰ نے پشاور میں اجلاس بھی طلب کیا ہے۔

دوسری جانب 27 ستمبر کے احتجاج کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست زیرِ سماعت ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے بھی احتجاج کے حوالے سے سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

پرامن سیاسی اجتماع اور اظہارِ رائے شہریوں کے آئینی حقوق میں شامل ہیں، تاہم احتجاج کے دوران عام شہریوں کی آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، مریضوں، طلبہ اور دیگر افراد کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

اگر شاہراہوں یا اہم عوامی راستوں پر احتجاجی کیمپ یا دھرنے قائم کیے جاتے ہیں تو متعلقہ سیاسی جماعت اور انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کے لیے متبادل راستے، ہنگامی خدمات اور بنیادی سہولیات متاثر نہ ہوں۔ اسی طرح احتجاج کو پرامن رکھنے اور کسی بھی قسم کے تشدد یا املاک کو نقصان سے بچانے کے لیے قانونی تقاضوں کی پابندی اہم ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر پی ٹی آئی کے ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ مجوزہ لانگ مارچ پلان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ دھرنوں، کیمپوں، راستوں اور مارچ کی قیادت سے متعلق تفصیلات میں انتظامی یا سیاسی فیصلوں کے نتیجے میں تبدیلی ممکن ہے۔ احتجاج سے متعلق قانونی اور انتظامی امور کے حوالے سے متعلقہ حکام اور عدالتوں کے فیصلے حتمی حیثیت رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں