**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بھی بجلی مہنگی ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے اگست 2026 کی ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں **1 روپے 73 پیسے فی یونٹ** اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرادی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اس درخواست پر **29 ستمبر 2026** کو سماعت کرے گی۔ مجوزہ اضافے کی منظوری کی صورت میں اس کا اطلاق کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں کے صارفین پر ہونے کا امکان ہے۔
سی پی پی اے کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں ڈسکوز کو تقریباً **14 ارب 46 کروڑ 40 لاکھ یونٹس** بجلی فراہم کی گئی، جبکہ فراہم کردہ بجلی کی اوسط لاگت **8 روپے 82 پیسے فی یونٹ** رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق اگست میں مجموعی بجلی پیداوار میں پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ **37.84 فیصد** رہا۔ مقامی کوئلے سے 10.88 فیصد، درآمدی کوئلے سے 15.59 فیصد، فرنس آئل سے 2.15 فیصد، مقامی گیس سے 7.04 فیصد اور درآمدی ایل این جی سے 8.48 فیصد بجلی پیدا ہوئی۔
سی پی پی اے کے مطابق اگست میں فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت **45 روپے 25 پیسے فی یونٹ** جبکہ درآمدی ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت **45 روپے 92 پیسے فی یونٹ** رہی۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اگست 2026 کے لیے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کا حساب 1.73 روپے فی یونٹ رکھا گیا ہے، جبکہ حتمی وصولی نیپرا کے جائزے اور فیصلے سے مشروط ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
بجلی کے نرخوں میں اضافے کا براہِ راست اثر گھریلو صارفین، کاروباری اداروں اور کم آمدنی والے خاندانوں کے ماہانہ اخراجات پر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے فیول ایڈجسٹمنٹ کے تعین میں شفاف حسابات، بجلی پیدا کرنے کے ذرائع کی لاگت اور صارفین پر مجموعی مالی بوجھ کو واضح کرنا عوامی مفاد میں اہم ہے۔
ریگولیٹری عمل کے دوران صارفین کے مفادات، قابلِ تجدید اور مقامی توانائی ذرائع کے استعمال اور بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی کے امکانات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر سی پی پی اے کی جانب سے دائر کردہ درخواست اور دستیاب سرکاری و ریگولیٹری معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ **1 روپے 73 پیسے فی یونٹ اضافہ تاحال مجوزہ ہے، حتمی اضافہ نہیں۔** نیپرا کی سماعت اور فیصلے کے بعد حتمی نرخ اور قابلِ وصول رقم واضح ہوگی۔


