20

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک

**کوئٹہ — (ایچ آراین ڈبلیو)**بلوچستان کے اضلاع پنجگور اور چاغی میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مختلف کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے اور بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں **آپریشن ردالفتنہ 3** کے تحت کی گئیں۔ پنجگور کے علاقے گوارگو میں کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ ان کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق چاغی کے علاقوں امین آباد اور سیاہ چنگ میں بھی سیکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کیں، جن کے دوران مزید 6 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ کارروائیوں کے دوران اسلحہ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کا مقصد مسلح گروہوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر اقدامات اور امن و امان کو بہتر بنانا ہے۔

ریاستی ذرائع نے ہلاک افراد کو ’’فتنہ الہندوستان‘‘ سے وابستہ قرار دیا ہے، تاہم ان دعوؤں اور کارروائی کی تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

بلوچستان میں امن و امان کا قیام اور شہریوں کا تحفظ بنیادی عوامی مفاد ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

ایسی کارروائیوں کے حوالے سے ہلاکتوں، گرفتاریاں، برآمدگیوں اور دیگر دعوؤں کی شفاف اور قابلِ اعتماد معلومات عوام تک پہنچانا بھی اہم ہے۔ اگر کسی شہری کے خلاف قانونی کارروائی ہو تو اسے قانون کے مطابق بنیادی قانونی حقوق اور منصفانہ طریقۂ کار کی ضمانت حاصل ہونی چاہیے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر سیکیورٹی ذرائع، سرکاری نشریاتی ادارے اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ دہشت گردوں کی شناخت، وابستگی، ہلاکتوں اور برآمدگیوں سے متعلق تفصیلات میں متعلقہ حکام کے دعوے شامل ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق ہر پہلو سے دستیاب نہیں۔ کسی بھی شخص یا گروہ سے متعلق الزام کو حتمی عدالتی فیصلہ تصور نہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں