**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پاکستانی معیشت پر منفی اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں ملکی برآمدات میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی مجموعی برآمدات تقریباً 30 ارب 80 کروڑ ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے دوران 32 ارب ڈالر سے زائد تھیں۔
رپورٹ کے مطابق چاول کی برآمدات میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، جو تقریباً ایک ارب 2 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکسٹائل، چینی اور دیگر زرعی مصنوعات کی برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق خلیجی ممالک کو پاکستانی برآمدات میں تقریباً 10 کروڑ ڈالر کی کمی ہوئی، جبکہ وسطی ایشیا اور افغانستان کے لیے برآمدات میں 59 فیصد تک کمی سامنے آئی ہے۔
حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تجارت، رسد اور ترسیل کے اخراجات متاثر ہوئے ہیں، جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کو مشکلات کا سامنا ہے۔ توانائی کی قیمتوں اور ٹیکسز میں کمی کے لیے حکومت کی جانب سے اقدامات جاری رکھنے کا بھی بتایا گیا ہے۔
اقتصادی امور کے ماہرین کے مطابق خطے میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی کشیدگی سے ایندھن کی قیمتوں، تجارتی راستوں، شپنگ اخراجات اور برآمدی طلب پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم برآمدات میں کمی کی مختلف وجوہات کا تعین کرنے کے لیے سرکاری اعداد و شمار اور شعبہ وار تجزیے کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
برآمدات میں کمی اور توانائی و ترسیل کے اخراجات میں اضافے کے اثرات روزگار، صنعتی پیداوار، کسانوں، مزدوروں اور عام صارفین تک پہنچ سکتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ برآمدی شعبے، چھوٹے کاروبار، زرعی پیداوار اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے شفاف اور مؤثر معاونت فراہم کرے۔
عوامی مفاد میں ضروری ہے کہ معاشی پالیسیوں، ریلیف اقدامات اور برآمدی اعداد و شمار کی بروقت اشاعت کی جائے تاکہ شہریوں، کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو درست معلومات دستیاب رہیں۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور دستیاب معاشی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ برآمدات کے اعداد و شمار میں نظرثانی ممکن ہے، جبکہ کمی کی وجوہات کے تعین کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کے تفصیلی اعداد و شمار اور شعبہ وار رپورٹس کو حتمی حوالہ سمجھا جانا چاہیے۔


