30

سینیٹ میں بجلی پیدا کرنے والے مختلف پلانٹس کی فی یونٹ لاگت کی تفصیلات پیش

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**ملک میں مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کی فی یونٹ لاگت کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کی گئی دستاویزات کے ذریعے سامنے آگئی ہیں، جن کے مطابق واپڈا کے ڈیمز سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت بعض نجی آئی پی پیز کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

دستاویزات کے مطابق واپڈا کے ڈیمز سے بجلی کی اوسط پیداوار لاگت **2.70 روپے فی یونٹ** سے شروع ہوتی ہے، جبکہ بعض نجی آئی پی پیز کی لاگت **34 روپے فی یونٹ سے بھی تجاوز** کرگئی ہے۔

سینیٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے واپڈا کو **34.5 ارب یونٹس** بجلی کے عوض تقریباً **186 ارب روپے** ادا کیے، جبکہ نجی آئی پی پیز کو **49.8 ارب یونٹس** کے بدلے تقریباً **1,040 ارب روپے** کی ادائیگی کی گئی۔

دستاویزات کے مطابق جاری مالی سال میں آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں **1,300 ارب روپے سے زائد** ادا کیے گئے۔

### مختلف پلانٹس کی فی یونٹ لاگت

دستاویزات کے مطابق:

* **تربیلا ہائیڈل پاور پروجیکٹ:** 2.70 روپے فی یونٹ
* **منگلا ہائیڈل پاور پروجیکٹ:** 3.75 روپے فی یونٹ
* **تمام ڈیمز کی مجموعی اوسط:** 5.39 روپے فی یونٹ
* **چشمہ ایٹمی بجلی گھر:** 6.76 روپے فی یونٹ
* **مقامی تھر کوئلہ:** 19.03 روپے فی یونٹ
* **پورٹ قاسم درآمدی کوئلہ پلانٹ:** 32.16 روپے فی یونٹ
* **ساہیوال کول پاور پلانٹ:** 34.17 روپے فی یونٹ

یہ اعداد و شمار مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت میں واضح فرق کو ظاہر کرتے ہیں، خصوصاً مقامی وسائل اور درآمدی ایندھن پر چلنے والے پلانٹس کے درمیان۔

قومی بجلی کے شعبے کے بارے میں نیپرا کی کارکردگی رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ اضافی پیداواری صلاحیت، کم پلانٹ استعمال اور بعض مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار بجلی کی مجموعی لاگت میں اضافے کے عوامل میں شامل ہیں۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

بجلی کی پیداوار اور اس کی لاگت براہِ راست صارفین کے بجلی کے بلوں اور ملکی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لیے بجلی پیدا کرنے والے مختلف پلانٹس کی لاگت، کیپیسٹی چارجز، ایندھن کے اخراجات اور پلانٹس کے استعمال کی شرح سے متعلق اعداد و شمار کی شفافیت عوامی مفاد میں اہم ہے۔

کم لاگت ذرائع سے دستیاب بجلی کے مؤثر استعمال، مہنگے ذرائع پر انحصار میں کمی اور توانائی کے شعبے میں معاہدوں و ادائیگیوں کی شفاف نگرانی سے صارفین پر پڑنے والے مالی بوجھ کا جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر سینیٹ میں پیش کردہ دستاویزات اور دستیاب رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ فی یونٹ لاگت مختلف ادوار، ادائیگیوں کے طریقہ کار، ایندھن کی قیمت، آپریشنل اخراجات اور دیگر عوامل کے باعث تبدیل ہوسکتی ہے۔ اعداد و شمار کو متعلقہ سرکاری دستاویزات کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں