**لندن — (ایچ آراین ڈبلیو)**آرچ بشپ آف کینٹربری کے دفتر نے پاکستانی مذہبی رہنما حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو دیا گیا **ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ برائے مفاہمت و بین المذاہب تعاون** واپس لے لیا ہے۔
لَیمبتھ پیلس کے مطابق یہ اعزاز گزشتہ ہفتے طاہر اشرفی کو پاکستان میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسیحی برادری کے لیے ان کی طویل عرصے سے حمایت اور بین المذاہب تعاون کے حوالے سے دیا گیا تھا۔ تاہم ان کے ماضی کے بعض بیانات سامنے آنے کے بعد لَیمبتھ پیلس نے اعزاز پر نظرثانی کی اور اسے واپس لینے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق 2007 میں طاہر اشرفی کی جانب سے اسامہ بن لادن سے متعلق ایک بیان دوبارہ سامنے آنے کے بعد برطانیہ میں اس اعزاز پر سوالات اٹھائے گئے۔ اس کے بعد آرچ بشپ آف کینٹربری کے دفتر نے اعزاز واپس لینے کا اعلان کیا۔
طاہر اشرفی کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے 2007 کے ریمارکس کو مناسب سیاق و سباق کے بغیر پیش کیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق یہ بیان اس وقت برطانیہ کی جانب سے سلمان رشدی کو نائٹ ہُڈ دیے جانے کے تناظر میں مسلمانوں میں پائی جانے والی ناراضی کی مثال دینے کے لیے دیا گیا تھا اور اسے اسامہ بن لادن کی حمایت قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔
لَیمبتھ پیلس نے اپنے بیان میں کہا کہ بین المذاہب مکالمہ اور تعاون کا اصول اپنی جگہ برقرار ہے، تاہم سامنے آنے والے سابقہ بیانات کی روشنی میں اعزاز واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے عوامی سطح پر دیے جانے والے اعزازات اعتماد اور ذمہ داری سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ایسے معاملات میں ماضی کے بیانات، موجودہ کردار اور متعلقہ شخص کے مؤقف کا مکمل جائزہ شفافیت اور عوامی اعتماد کے لیے اہم ہے۔
اسی طرح کسی شخصیت کے ماضی کے بیان کی بنیاد پر موجودہ مؤقف اخذ کرنے کے بجائے اصل بیان، اس کا سیاق و سباق اور بعد کے وضاحتی مؤقف کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، بین المذاہب ہم آہنگی اور عوامی مسائل کی مستند کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر لَیمبتھ پیلس کے سرکاری بیان اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ طاہر اشرفی سے منسوب ماضی کے بیانات اور ان کی وضاحت کو متعلقہ فریقین کے مؤقف کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ خبر میں کسی فریق کے مؤقف کو عدالتی یا حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔


