22

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ دوبارہ گرفتار، جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سپریم کورٹ سے ضمانت اور سزا معطلی کا حکم ملنے کے چند گھنٹوں بعد ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔

دونوں کو انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے تفتیش کے لیے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا، جس کے بعد دونوں کو دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق دونوں کے خلاف مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج ہے۔ مقدمے میں سڑکیں بند کرنے، مبینہ طور پر سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، سرکاری اہلکار کے کام میں مداخلت اور دیگر دفعات شامل ہیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق مقدمہ مارچ 2025 میں درج کیا گیا تھا اور اس وقت ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل نہیں تھیں۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے 17 ستمبر 2026 کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حتمی فیصلے تک ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے دونوں کے لیے دو، دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے مقرر کیے تھے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

کسی بھی ملزم کو قانون کے مطابق گرفتاری، وکیل تک رسائی، منصفانہ سماعت اور عدالتی نگرانی کا حق حاصل ہے۔ ایک مقدمے میں رہائی یا ضمانت کے بعد دوسرے مقدمے میں گرفتاری کی صورت میں بھی قانونی طریقہ کار اور عدالتی احکامات کی مکمل پابندی ضروری ہے۔

مقدمے میں عائد الزامات کا حتمی تعین عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا، اس لیے زیرِ سماعت مقدمات میں تمام فریقین کے قانونی حقوق اور شفاف عدالتی عمل کو یقینی بنانا اہم ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر عدالتی احکامات، پولیس مؤقف اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف بیان کردہ الزامات کو حتمی جرم ثابت ہونے کے طور پر نہ لیا جائے۔ مقدمے کے حتمی حقائق اور قانونی ذمہ داری کا تعین متعلقہ عدالت کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں