**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کرنے اور عوام کو بڑھتی مہنگائی کے باعث حقیقی ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے اعلان کیے جانے والے عارضی ریلیف پیکیجز عوامی مشکلات کا مستقل حل نہیں ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے مؤقف اختیار کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت کو پٹرولیم لیوی کے معاملے پر نظرثانی کرنی چاہیے، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ بالخصوص متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر اثر انداز ہوتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، بجلی کے شعبے میں آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) سے متعلق معاہدوں اور معاملات کا جائزہ لیا جائے اور عام آدمی کے لیے بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔
جماعت اسلامی کے امیر نے حکومتی ریلیف اسکیم کو بھی ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کا بنیادی مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق جماعت اسلامی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے باوجود 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان برقرار رکھا ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نقل و حمل، خوراک، بجلی اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں، اس لیے ایندھن کی قیمتوں سے متعلق پالیسی کے اثرات عام شہریوں، مزدوروں اور کم آمدنی والے خاندانوں تک پہنچتے ہیں۔ پٹرولیم لیوی یا کسی بھی متبادل ریلیف پالیسی کے حوالے سے شفاف حسابات، واضح طریقہ کار اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھنا اہم ہے۔
سیاسی احتجاج کے حوالے سے بھی شہریوں کے آئینی حقِ اجتماع اور اظہارِ رائے کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی تحفظ کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
اس خبر میں حافظ نعیم الرحمان اور جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات اور مؤقف کو منسوب کرکے بیان کیا گیا ہے۔ ان کے سیاسی اور معاشی دعووں کو آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ پٹرولیم قیمتوں، ٹیکسز، لیوی اور حکومتی ریلیف سے متعلق حتمی اعداد و شمار کے لیے متعلقہ سرکاری ریکارڈ سے رجوع کیا جانا چاہیے۔


