**پشاور (ایچ آراین ڈبلیو)** — خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ میں تبدیلی کے لیے ترمیمی مسودہ تیار کرلیا گیا ہے، جس پر پولیس حکام نے بعض تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مجوزہ ترامیم میں **ڈی ایس پیز کی تقرری اور تبادلے کے اختیارات محکمہ داخلہ کے ماتحت کرنے** کی تجویز بھی شامل ہے۔
پولیس حکام نے اختیارات کی منتقلی سے متعلق اپنے اعتراضات اور تحفظات متعلقہ حکام کے سامنے پیش کردیے ہیں۔ پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں سے پولیس کے انتظامی اور پیشہ ورانہ امور پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
ترمیمی مسودے پر مزید غور اور مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیے جانے کی توقع ہے۔
### انسانی پہلو
پولیس کے انتظامی اختیارات اور تقرریوں کا نظام براہِ راست قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی، جواب دہی اور عوامی تحفظ سے منسلک ہوتا ہے۔ ایسے معاملات میں شفافیت، واضح اختیارات اور مؤثر نگرانی عوام کے اعتماد کے لیے اہم ہیں۔
### HRNW Support Appeal
Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ HRNW کے مشن کو سپورٹ کریں:
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر مجوزہ ترامیم اور پولیس حکام کی جانب سے ظاہر کیے گئے تحفظات پر مبنی ہے۔ ترمیمی مسودے میں حتمی تبدیلیاں متعلقہ حکام کی منظوری اور قانونی کارروائی کے بعد ہی مؤثر ہوں گی۔


