24

امریکی کمپنی POWERUS کے وفد کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، دفاعی ٹیکنالوجی پر گفتگو

**راولپنڈی — (ایچ آراین ڈبلیو)**امریکا میں قائم دفاعی اور اہم انفراسٹرکچر سے متعلق کمپنی **POWERUS** کے ایک وفد نے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں ملاقات کی۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق وفد کی قیادت **رابرٹ بریٹ ویلیکووچ** نے کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دفاعی ٹیکنالوجی میں بدلتے ہوئے رجحانات اور دفاعی سازوسامان کی خریداری، پیداوار اور استعدادِ کار میں اضافے کے شعبوں میں تعاون کے ممکنہ مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قومی سلامتی اور ملکی استقامت کو مضبوط بنانے میں تکنیکی جدت اور جدید حل کی اہمیت پر زور دیا۔

ملاقات کے دوران دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں روابط اور تعاون کو مزید فروغ دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔

رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق POWERUS کے شریک بانی رابرٹ بریٹ ویلیکووچ نے بعد ازاں بتایا کہ کمپنی نے پاکستان آرمی کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں جس میں ڈرونز سے متعلق ابتدائی آرڈر بھی شامل ہے۔ تاہم اس معاہدے کی مالی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے ملاقات کے بیان میں اس MoU کا ذکر نہیں کیا گیا۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

دفاعی ٹیکنالوجی اور سرکاری دفاعی خریداری سے متعلق معاہدوں میں قومی سلامتی کے تقاضوں کے ساتھ شفاف قانونی طریقہ کار، مناسب نگرانی اور عوامی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ دفاعی تعاون کے عملی نتائج اور مالی شرائط کے بارے میں جو معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہوں، انہیں مستند ذرائع سے واضح طور پر بیان کیا جانا چاہیے۔

## HRNW Support Appeal

HRNW کی آزاد صحافتی اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر آئی ایس پی آر اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ملاقات کے حوالے سے سرکاری بیان اور POWERUS سے منسوب بعد کی معلومات میں بعض تفصیلات مختلف ہیں، اس لیے MoU، آرڈر کی مالیت اور مستقبل کے دفاعی تعاون سے متعلق حتمی تفصیلات کو متعلقہ فریقوں کے باضابطہ اعلانات کی روشنی میں ہی حتمی سمجھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں