26

کسان اتحاد کا 25 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھرپور احتجاج کا اعلان

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**کسان اتحاد نے اپنے مطالبات کی منظوری اور زرعی مسائل کے حل کے لیے **25 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھرپور احتجاج** کرنے کا اعلان کردیا۔

چیئرمین کسان اتحاد نے کہا ہے کہ ابھی تک کسی بھی صوبائی حکومت نے آئندہ گندم کی خریداری کے حوالے سے واضح پالیسی تشکیل نہیں دی، جس کے باعث کسانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

چیئرمین کسان اتحاد اور صدر سندھ آبادگار اتحاد نے کسانوں کو درپیش مسائل اور اپنے مطالبات بھی پیش کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ گندم کی خریداری کے لیے بروقت اور واضح حکومتی پالیسی ضروری ہے تاکہ کاشتکاروں کو اپنی فصل کی مناسب مارکیٹ اور قیمت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

کسان نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گندم کی خریداری، قیمت، زرعی اخراجات اور کاشتکاروں کو درپیش دیگر مسائل پر فوری توجہ دی جائے اور واضح پالیسی کا اعلان کیا جائے۔

کسان اتحاد کے مطابق مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں 25 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

زراعت ملکی غذائی ضروریات اور لاکھوں کاشتکار خاندانوں کے روزگار سے براہِ راست وابستہ شعبہ ہے۔ گندم کی خریداری اور قیمتوں سے متعلق واضح اور بروقت پالیسی نہ صرف کسانوں بلکہ صارفین اور مجموعی غذائی تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔ احتجاج کے دوران انتظامیہ اور مظاہرین دونوں کے لیے ضروری ہے کہ قانونی حدود، پرامن اجتماع اور شہریوں کے معمولات کا احترام یقینی بنایا جائے۔

## HRNW Support Appeal

HRNW کی آزاد صحافتی اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر کسان نمائندوں کی جانب سے بیان کیے گئے مؤقف، مسائل اور مطالبات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ گندم کی خریداری سے متعلق صوبائی حکومتوں کی پالیسی اور دیگر متعلقہ امور پر حتمی معلومات کے لیے سرکاری اعلانات کو حتمی ماخذ تصور کیا جائے۔ احتجاج سے متعلق صورتحال میں تبدیلی ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں