28

بیرون ملک سے موبائل فون لانے والوں کے لیے بڑی سہولت، سیلز ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کی اجازت

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بیرون ملک سے درآمد یا ذاتی استعمال کے لیے موبائل فون پاکستان لانے والے شہریوں کے لیے سیلز ٹیکس کی ادائیگی میں سہولت فراہم کردی۔

نئے طریقہ کار کے تحت شہری درآمد شدہ یا بیرون ملک سے ذاتی استعمال کے لیے لائے گئے موبائل فونز پر عائد سیلز ٹیکس ایک ساتھ ادا کرنے کے بجائے آسان اقساط میں جمع کرا سکیں گے۔

تاہم ایف بی آر کے مطابق اقساط کی سہولت حاصل کرنے والے افراد کے لیے متعلقہ مالیاتی سال کے اختتام سے قبل تمام واجب الادا سیلز ٹیکس کی مکمل ادائیگی لازمی ہوگی۔

ایف بی آر کے مطابق یہ سہولت **سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے نویں شیڈول** میں ترمیم کے ذریعے متعارف کرائی گئی ہے، جبکہ اس نظام کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے **ڈیربس (DIRBS)** سسٹم کے ذریعے فعال کیا جائے گا۔

نئے طریقہ کار کا مقصد بیرون ملک سے موبائل فون لانے والے شہریوں کے لیے ٹیکس ادائیگی کے عمل کو نسبتاً آسان بنانا ہے، تاہم موبائل فون کی رجسٹریشن اور واجب الادا ٹیکس کی مقررہ مدت میں مکمل ادائیگی بدستور ضروری رہے گی۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

ٹیکس اور موبائل فون رجسٹریشن کے نظام میں شفاف، آسان اور واضح طریقہ کار شہریوں کے لیے اہم ہے۔ اقساط کی سہولت سے صارفین پر فوری مالی بوجھ کم ہوسکتا ہے، تاہم متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ٹیکس کی شرح، اقساط کی شرائط، آخری تاریخ اور رجسٹریشن کے طریقہ کار سے متعلق معلومات واضح طور پر فراہم کریں تاکہ شہری غیر ضروری مشکلات اور اضافی اخراجات سے محفوظ رہیں۔

## HRNW Support Appeal

HRNW کی آزاد صحافتی اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اقساط کی تعداد، ادائیگی کے شیڈول، ٹیکس کی حتمی رقم اور دیگر عملی شرائط کے لیے ایف بی آر اور پی ٹی اے کی جاری کردہ تازہ ترین ہدایات کو حتمی تصور کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں