**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**اسلام آباد کے پمز اسپتال میں نرسری میں آتشزدگی کے واقعے سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے قائم کردہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انکوائری رپورٹ میں نرسری میں آگ لگنے کا ممکنہ سبب برقی خرابی کو قرار دیا گیا ہے، جبکہ کمیٹی نے واقعے کو پمز انتظامیہ کی ناکامی بھی قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اے سی نمبر 2 کو بجلی فراہم کرنے والی سپلائی کیبل سے آگ لگنے کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ انکوائری کمیٹی کو تخریب کاری یا آئیسکو کی جانب سے کسی فالٹ کے شواہد نہیں ملے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آکسیجن لیکیج یا انکیوبیٹر سے آگ لگنے کے حوالے سے بھی کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ آتشزدگی کے ابتدائی لمحات میں فرنٹ لائن عملے کی جانب سے فوری کارروائی کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق کسی فرد کے خلاف مجرمانہ جرم ثابت نہیں ہوا، تاہم نرسری میں خودکار دھویں کا پتا لگانے اور مؤثر فائر الارم کا نظام موجود نہ ہونا انتظامی و حفاظتی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 6 جولائی کو نرسنگ ہاسٹل میں پیش آنے والی آتشزدگی نے بھی فائر سیفٹی سے متعلق بعض خامیوں کو ظاہر کیا تھا، تاہم سابقہ فائر سیفٹی وارننگز پر مؤثر انداز میں عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
کمیٹی کی رپورٹ میں اسپتال میں فائر سیفٹی کے انتظامات، وارننگز پر عملدرآمد اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
اسپتالوں میں زیرِ علاج مریضوں، نومولود بچوں اور طبی عملے کی جان و سلامتی کے لیے مؤثر فائر سیفٹی نظام بنیادی ضرورت ہے۔ خودکار دھویں کا پتا لگانے والے آلات، فعال فائر الارم، ہنگامی راستوں اور عملے کی تربیت سمیت حفاظتی انتظامات کی باقاعدہ جانچ ضروری ہے۔ سابقہ حفاظتی انتباہات پر بروقت عملدرآمد اور ذمہ داری کے تعین کے لیے شفاف نگرانی عوامی تحفظ کے لیے اہم ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر میڈیا رپورٹس میں بیان کردہ انکوائری رپورٹ کی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ آتشزدگی کی وجوہات اور انتظامی ذمہ داری سے متعلق حتمی قانونی حیثیت متعلقہ حکام کی کارروائی اور دستیاب سرکاری ریکارڈ سے طے ہوگی۔ خبر میں کسی فرد کے خلاف مجرمانہ جرم ثابت نہ ہونے سے متعلق بیان انکوائری رپورٹ میں درج مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔


